احمد شاہ ایک فرد نہیں ادارہ ہے۔گزشتہ پندرہ برس سے ہر سال اردو کانفرنس کے موقع پر ان کے انتظام و انصرام کے کمالات کو دیکھتی آرہی ہوں۔انہوں نے کراچی آرٹس کونسل میں روایتی پروگراموں کی بجائے حبس اور جبر کے موسم میں بے حسی اور بے بسی کے سحر میں جکڑی سوچوں کو اظہار کا موقع اور مکالمے کی فضا فراہم کی تو آرٹس کونسل کا صحن محبت کا مرکز بنتا گیااور لوگ ان کے گرویدہ ہوتے گئے،ادبی و اردو کانفرنس کے پلیٹ فارم پر فن،آرٹ،کلچر اور پاکستانی زبانوں کے تمام دلکش رنگ جگمگانے لگے۔ تنگ نظری اور بنیاد پرستی کے یرغمال ماحول میں لوگوں کی ذہنی اور جمالیاتی تفریح کا اہتمام کرنامعاشرے میں خیر بانٹنے کے مترادف ہے۔ادب و ثقافت کی نامور ہستیوں کو لوگوں خصوصا نوجوانوں کے سامنے بٹھایا کہ وہ انہیں سنیں اور ادبی موضوعات کے علاوہ ریاستی و معاشرتی معاملات و مسائل پر ان سے سوال کرکے اپنی سوچ کا اظہار کریں ۔اس سب سے بڑے ادبی میلے میں شرکت کے لئے لوگ سال بھر انتظار کرتے ہیں۔وقت کے ساتھ ساتھ اس کا دائرہ کار وسیع ہوتا رہا، ادیبوں،دانشوروں اور فنکاروں کی تعداد میں بھی اضافہ ہوتا رہا لیکن پھر بھی ایک وقت میں دنیا بھر سے تمام نامور ہستیوں کو بلانا اور پروگرام کا حصہ بنانا ممکن نہیں ہوتا اس لئے احمد شاہ نے اپنے قافلے کے ساتھ پاکستان کے مختلف شہروں میں ادبی میلوں کے انعقاد کا فیصلہ کیا۔آغاز پاکستان کے دل لاہور سے کیا جو ادبی اور ثقافتی حوالوں سے تاریخی اہمیت کا حامل ہے۔
لاہور کا تین روزہ لاہور لٹریری فیسٹیول ایک یادگار میلہ ثابت ہوا۔ ادب و ثقافت کے علاوہ سیاست اور صحافت کی نامور شخصیات نے بھی اس میلے میں بھرپور شرکت کی۔ہر سیشن اتنا بھرپور تھا کہ سیڑھیوں اورا سٹیج کے سامنے زمین پر لوگ بیٹھے تھے اور سینکڑوں باہر انتظار میں کھڑے تھے۔ کتاب کی رونمائی پر سو دو سو لوگوں کو اکٹھا کرنا مشکل ہوتا ہے لیکن مستنصر حسین تارڑ کے ناول ’میں بھناں دلی دے کنگرے‘، اور فواد حسن فواد کی ’کنجِ قفس‘، کی تقریبات میں ہال میں واقعتا تِل دھرنے کو جگہ نہ تھی۔اس عہد کے بے مثل شاعر افتخار عارف کی صدارت میںپیرزادہ قاسم اور ڈاکٹر خورشید رضوی کی خصوصی شرکت میں ہونے والا مشاعرہ بھی لاہور کا تاریخی مشاعرہ بن گیا کہ اس سے قبل میں نے اپنی زندگی میںکبھی کسی ملک یا شہر میں لوگوں کی اس قدر بڑی تعداد کے علاوہ اتنا والہانہ پن نہیں دیکھا۔
سب سے نمایاں اور قابلِ ذکر بات یہ ہے کہ اس فیسٹیول میں مجموعی طور پر نوجوانوں کی شرکت حیرت انگیز رہی جو میری نظر میں اس میلے کا سب سے زیادہ معتبر پہلو ہے۔ یہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ ہمارے نوجوان جن پر ہمیں غیر ملکی زبان اور ثقافت کی یلغار نظر آتی ہے،کے من میں اردو اور پاکستانی زبانوں میں تخلیق ہونے والے ادب اور فن سے محبت زندہ ہے اور اگر اس طرح کی اچھی منصوبہ بندی والے پروگرام منعقد کئے جائیں تو انھیں متحرک کیا جاسکتا ہے دوسرا یہ کہ انھیں اپنی زمین کی قدروں سے جوڑ کر رواداری اور خیر کی آفاقی قدروں سے جوڑا جا سکتا ہے۔اگرچہ اس بھرپور میلے کے اعلیٰ انعقاد کی دھوم پوری دنیا میں خوشبو کی طرح پھیلی ہوئی ہے پھر بھی کمی بیشی سے انکار نہیں کیا جاسکتا کہ انعقاد کرنے والا انسان ہے فرشتہ نہیں۔ پنجابی کے حوالے سے ہونے والے سیشنز کے لئے میں نے اور ثروت محی الدین نے سینکڑوں نام تجویز کئے تھے، ہو سکتا ہے کچھ اہم لوگ رہ گئے ہوں وہ اگلے میلے میں ایڈجسٹ ہو جائیں گے اس میلے کا مقصد کسی سے کوئی مقابلہ نہیں تھا۔ یہ تو عوامی سطح پر ثقافت کے ذریعے ملکی ہم آہنگی کا علمبردار میلہ تھا۔ ہم سب ملکی ہم آہنگی کا تذکرہ کرتے ہیں مگر ابھی تک کسی پلیٹ فارم سے ایسی عملی کاوش دیکھنے کو نہیں ملی جس کا آغاز احمد شاہ نے کیا ہے۔ وہ اب گوادر، پشاور، ملتان،مظفرآباد، گلگت کے علاوہ امریکہ، کینیڈا، یورپ، عرب امارات اور دیگر ملکوں میں پاکستانی ثقافت کے جھنڈے گاڑنے کے سفر پر روانہ ہورہا ہے ۔میں پر امید ہوں احمد شاہ کا ہر پڑاؤ ،جہاں ملک میں رواداری کو فروغ دے گا وہیں دنیا کو بھی یہ پیغام دے گا کہ ہم طاقتور ثقافتی قدروں کے امین فن اور ثقافت کے رسیا لوگ کتنے پرامن اور تعمیری فطرت کے حامل ہیں۔سلامت رہو احمد شاہ!