ہر وقت ایک سی رفتار اور روانی سے بہنے والا دریا کبھی جوش میں آکر کناروں سے اچھل پڑتا ہے تو کبھی اس کی سیلابی لہریں یوں بپھر کر حملہ آور ہوتی ہیں کہ ارد گرد موجود ہر شے تہس نہس کر دیتی ہیں۔سبزہ، عمارتیں اور زندگی پل بھر میں تنکوں کی طرح بہتے آنکھوں سے اوجھل ہو جاتے ہیں۔انسان کا من بھی دریا کی مانند ہے اور خیر و شر یعنی دونوں طاقتوں کو دل کے میزان پر تھامے زندگی کرتا ہے۔جب اس میں مثبت طاقت متحرک ہوتی ہے تو معاشرے کی تعمیر و تخلیق کی سوچ پنپتی ہے ، خوشحالی اور خوبصورتی کے نئے رنگ اجاگر ہوتے ہیں لیکن جب وہ منفی طاقت کا مطیع ہو کر تخریب کے راستے کا انتخاب کرلیتا ہے تو اپنے ساتھ ساتھ دوسروں کیلئے بھی خطرناک ہو جاتا ہے۔کبھی کبھی ایک لمحے کا غم و غصہ اور جلال بڑی تباہی کا باعث بنتا ہے۔تمام تر بے انصافی، ظلم، استحصال، تقسیم اور غیر انسانی رویوں کا سبب شر ہے۔ اب اصل مسئلہ ان دونوں میں سے خیر کا انتخاب،اس کی پرورش، اس سے دوستی اور اس کی بات پر عمل کرنا ہے۔دنیا میں کم لوگ ہوتے ہیں جو خود یہ سب پہچان رکھتے ہوں ورنہ بڑی بڑی ڈگریوں والے اپنے اندر کے حال سے ناواقف ہونے کے باعث اپنی جبلی وحشت کو کنٹرول کرنے میں ناکام رہتے ہیں۔لوگوں کو درست سمت کے انتخاب میں مدد دینا سب سے بڑی اچھائی ہے۔پھر انسان مثبت سوچ کو اپنا کر تعمیری رستے پر آگے بڑھتا رہتا ہے۔قدرت انسان کی رہنما ہے اس نے انسان کی تخلیق کے وقت جو امتحان اور آزمائشیں اس کے نصیب میں لکھیں ان سے نکلنے کے اسباب بھی پیدا کئے۔ہر دور میں، ہر معاشرے میں ادیبوں، دانشوروں اور فنکاروں کے روپ میں صوفی ولی بھیجےتاکہ اپنی تحریر،گفتگو اور فن کے ذریعے وہ لوگوں کو اپناآپ دریافت کرنےمیںانکی مدد کریںاور انکےجمالیاتی پہلو کو اجاگر کریں۔پاکستان سمیت دنیا اس وقت مادیت کی طاقتور جکڑ میں ہے۔ ہر شے پر قبضے کی خواہش نے دنیا کے انسانوں کو تقسیم اور تفریق کی اذیت میں مبتلا کر رکھا ہے۔ہر شخص تنہا اور دکھی ہے کیونکہ نہ وہ دوسروں پر اعتبار کرتا ہے نہ دوسرے اس پر۔ایسی صورت میں صوفی ازم کی اہمیت بہت بڑھ جاتی ہے خصوصاً پاکستان جیسے ملک میں جہاں فرقہ پرستی اور استحصال زوروں پر ہے۔قاسم علی شاہ کو بھی خدا نے لوگوں کی دلجوئی اور ہمنوائی کا منصب عطا کر رکھا ہے۔ برسوں پہلے انھوں نے اپنی اس صلاحیت کا پہلا اظہار کیا تو سماج نے انھیں خیر کی تحریک دینے والا مقرر کہہ کر پکارا، وہ اس رستے پر چلتے رہے، ان کے من کی سچائی اور درد مندی نے لفظوں کو ایسی تاثیر عطا کی کہ ان کا دائرہ وسیع ہوتا گیا۔پھر قاسم علی شاہ فاؤنڈیشن وجود میں آئی جس نے نوجوانوں کی تعلیم و تربیت کیلئے عملی کام کا آغاز کیا۔مستحق طلبا کیلئے وظائف اور دیگر سہولتیں ممکن بنائیں۔ سماج میں روا داری اور برداشت کی فضا کے قیام کیلئے قاسم علی شاہ نے تصوف کے در پر دستک دی تو انھیں حال کی بہت سی قد آور ہستیوں نے خوش آمدید کہا۔ لاہور میں انھوں نے پہلی صوفی کانفرنس منعقد کی جس میں بابا جی عرفان الحق،ڈاکٹر طاہر رضا بخاری،ڈاکٹر محمد علی،محمد انوارالحق،طارق بلوچ صحرائی اور راقم نے گفتگو کی۔علی عباس اور ڈاکٹر طاہر شہیر انتظامات میں شامل تھے۔سب نے بہت عمدہ اور مختلف خیالات کا اظہار کیا۔بابا جی عرفان نے رسول اللہ ﷺکے درخت لگانے کی تلقین والے فرمان کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ’’ درخت بن جاؤ ،دوسروں کو سایہ دو،ان کی بھوک مٹاو۔‘‘قاسم علی شاہ نے صوفی کو کالک زدہ برتن قرار دیا جسے باہر سے کم لیکن اندر سے زیادہ دھویا جاتا ہے۔کیونکہ اسے معلوم ہوتا ہے کہ اندر کی صفائی زیادہ اہمیت کی حامل ہے۔ڈاکٹر محمد علی وی سی قائد اعظم یونیورسٹی نے پاکستان میں صوفی ازم کی طاقتور روایت اور ورثے کو نوجوان نسل میں منتقل کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔ڈاکٹر طاہر رضا بخاری سیکرٹری اوقاف نے اسلام کے تصور مساوات کو عملی طور پر اپنا کر معاشرے میں ہم آہنگی کی فضا قائم کرنے میں صوفیا کے بھرپور کردار اور کاوشوں کو سراہا۔اس کانفرنس میں نوجوانوں کی بھرپور نمائندگی دیکھ کر بہت خوشی اور اطمینان ہوا۔یہی اس کی کامیابی بھی تھی۔صوفی ہمارا ثقافتی ہیرو ہے۔صدیوں پہلے اس کا ڈیرہ ثقافتی مرکز کی حیثیت رکھتا تھا۔وہاں محفل حمد ونعت، محفل سماع، محفل غزل،دھمال،مشاعرے اور تھیٹر ہوتے تھے جو لوگوں کی جمالیاتی تربیت کرتے اور انھیں اظہار کے مواقع فراہم کرتے تھے۔ثقافتی سرگرمیوں کے ذریعے انسان کی شخصیت کو متوازن رکھا جاسکتا ہے۔قاسم علی شاہ کو بھی شاید اسی جذبے کے پیش نظر الحمرا آرٹ کونسل کا چیئرمین بنایا گیا۔یہ ایک اعزازی عہدہ ہے۔امید کی جاسکتی ہے کہ آنے والے دنوں میں ثقافت میں شامل کثافت کوحذف کرنے پر توجہ مرکوز کی جائے گی۔