Prof Riaz Ahmad Qadri

فیصل آباد کا ادبی انسائکلوپیڈیا: ڈاکٹر اظہار احمد گلزار (فکر و فن کا تحقیقی و تنقیدی جائزہ)
تحریر : پروفیسر ریاض احمد قادری
کسی بھی خطے کی تہذیب، ثقافت اور علم و ادب کو زندہ رکھنے کے لیے ایسے عبقری نظریات اور شخصیات کی ضرورت ہوتی ہے جو اپنی ذات میں ایک مکمل کتب خانہ اور تحریک ہوں۔ معاصر اردو اور پنجابی ادب کے افق پر ایک ایسا ہی معتبر، درخشاں اور معتمد نام ڈاکٹر اظہار احمد گلزار کا ہے، جنہیں بجا طور پر "فیصل آباد کا ادبی انسائکلوپیڈیا" کہا جاتا ہے۔ آپ کی ادبی خدمات کا دائرہ اتنا وسیع اور ہمہ جہت ہے کہ اس میں تحقیق کی عرق ریزی بھی ہے، تنقید کا اعتدال بھی، نعت و سیرت کی نورانیت بھی ہے اور انشا پردازی و خاکہ نویسی کی شگفتگی بھی۔
ان کی تحریروں میں علمی گہرائی اور اسلوب کی شگفتگی کا ایک خاص امتزاج پایا جاتا ہے۔ زیرِ نظر مضمون میں ڈاکٹر اظہار احمد گلزار کے فکر و فن کے انہی نمایاں پہلوؤں کا تفصیلی احاطہ کیا گیا ہے۔
1۔ بحیثیت محقق اور تاریخ ساز (The Researcher)
ڈاکٹر اظہار احمد گلزار کا شمار عصرِ حاضر کے ان مخلص اور محنتی محققین و ناقدین میں ہوتا ہے جنہوں نے اپنی علمی و ادبی صلاحیتوں کو کسی وقتی شہرت کے بجائے ٹھوس اور دستاویزی کام کے لیے وقف کر رکھا ہے۔ ان کے دو اہم ترین تحقیقی مقالہ جات—ایم فل کا مقالہ بعنوان "معروف شاعر نور محمد نور کپور تھلوی: احوال و آثار" اور پی ایچ ڈی کا مقالہ بعنوان "فیصل آباد کی ادبی تاریخ"—ان کی گہری تحقیقی بصیرت، تنقیدی شعور اور ادبی مٹی سے سچی وابستگی کا منہ بولتا ثبوت ہیں۔
ان دونوں مقالہ جات کی روشنی میں ڈاکٹر اظہار احمد گلزار کی تحقیقی اور تنقیدی صلاحیتوں کا تفصیلی جائزہ درج ذیل پہلوؤں سے لیا جا سکتا ہے:
۱۔ غیر دریافت شدہ اور گمشدہ گوشوں کی تلاش (ایم فل مقالہ)
ایم فل کے مقالے کے لیے نور محمد نور کپور تھلوی جیسی ادبی شخصیت کا انتخاب کرنا ہی ڈاکٹر اظہار احمد گلزار کے روایتی ڈگر سے ہٹ کر کام کرنے کے جذبے کو ظاہر کرتا ہے۔
تحقیقی اہمیت: عام طور پر محققین نامی گرامی اور پہلے سے مروجہ شخصیات پر کام کرنا آسان سمجھتے ہیں، لیکن ڈاکٹر اظہار احمد گلزار نے ایک ایسے سچے تخلیق کار کے احوال و آثار کو یکجا کیا جو کپور تھلہ سے ہجرت کر کے آئے اور جن کا کام بکھرا ہوا تھا۔
تنقیدی بصیرت: انہوں نے صرف نور محمد نور کپور تھلوی کی سوانح پر اکتفا نہیں کیا، بلکہ ان کی شاعری کے فکری و فنی محاسن کا تفصیلی ناقدانہ جائزہ لیا۔ ان کی بحروں کے استعمال، اسلوب کی سادگی، اور کلام میں موجود دردمندی کو تنقیدی کسوٹی پر پرکھ کر انہیں ادبی منظرنامے پر ان کا جائز مقام دلایا۔
۲۔ وسیع کینوس اور دستاویزی تاریخ سازی (پی ایچ ڈی مقالہ)
ڈاکٹر اظہار احمد گلزار کا پی ایچ ڈی کا مقالہ "فیصل آباد کی ادبی تاریخ" محض ایک ڈگری کے لیے لکھا گیا مقالہ نہیں ہے، بلکہ یہ اس خطے کا ایک ادبی انسائیکلوپیڈیا اور معتبر ترین دستاویز ہے۔
جامعیت اور عرق ریزی: فیصل آباد (سابقہ لائل پور) جیسی زرخیز دھرتی کی پوری ادبی تاریخ کو یکجا کرنا، جس میں شعر و نثر، صحافت، اور تنقید کے کئی ابواب شامل ہیں، ایک دائرۃ المعارف قائم کرنے کے مترادف ہے۔ انہوں نے تاریخ کے دھندلکے سے سینکڑوں ادیبوں، شاعروں، رسائل اور ادبی تنظیموں کا کھوج لگایا۔
تاریخی و تنقیدی شعور: اس مقالے میں ان کی تنقیدی بصیرت اس وقت عروج پر نظر آتی ہے جب وہ مختلف ادوار کے فکری رجحانات کا تجزیہ کرتے ہیں۔ وہ صرف ناموں کی فہرست پیش نہیں کرتے، بلکہ یہ واضح کرتے ہیں کہ فیصل آباد کے صنعتی اور معاشرتی ارتقا نے یہاں کے تخلیقی ذہنوں کو کس طرح متاثر کیا۔
۳۔ ڈاکٹر اظہار احمد گلزار کے تحقیقی و تنقیدی اسلوب کی خصوصیات
الف) حقائق کی صداقت اور سائنسی اندازِ فکر
ڈاکٹر اظہار احمد گلزار کی تحقیق کی سب سے بڑی خوبی "ثبوت اور سند" پر اصرار ہے۔ انہوں نے سنی سنائی باتوں پر تکیہ کرنے کے بجائے بنیادی مآخذ (Primary Sources)، قلمی نسخوں، پرانے رسائل اور معاصرین کے انٹرویوز سے مدد لی، جو ان کے سائنسی اور غیر جانبدارانہ طرزِ تحقیق کو نمایاں کرتا ہے۔
ب) معروضیت اور غیر جانبدارانہ تنقید
ایک نقاد کے لیے سب سے مشکل کام اپنے ہم عصروں یا مقامی ادوار پر تنقید کرتے ہوئے غیر جانبدار رہنا ہوتا ہے۔ ڈاکٹر اظہار احمد گلزار نے "فیصل آباد کی ادبی تاریخ" لکھتے ہوئے کسی ذاتی پسند یا ناپسند کو آڑے نہیں آنے دیا۔ انہوں نے ہر فنکار کے کام کا جائزہ خالصتاً اس کی ادبی قدر و قیمت کی بنیاد پر لیا۔
ج) اسلوب کی شائستگی اور علمی وقار
ان کی تنقید میں کہیں بھی جارحیت یا غیر ضروری مداح سرائی نظر نہیں آتی۔ ان کا اسلوب انتہائی متوازن، سنجیدہ اور علمی ہے۔ وہ جہاں فنی خامیوں کی نشاندہی کرتے ہیں، وہاں بھی ان کا لہجہ اصلاحی اور تعمیری ہوتا ہے۔
ان مقالہ جات کی روشنی میں یہ بلاخوفِ تردید کہا جا سکتا ہے کہ ڈاکٹر اظہار احمد گلزار صرف ایک اکیڈمک محقق نہیں ہیں، بلکہ وہ ایک مورخِ ادب اور ثقافتی محافظ ہیں۔
ان کا ایم فل کا مقالہ جہاں ان کی جزرس بینی اور انفرادی گوشوں کو اجاگر کرنے کی صلاحیت کا پتا دیتا ہے، وہاں ان کا پی ایچ ڈی کا مقالہ ان کے تنقیدی و تحقیقی کینوس کی وسعت اور ارفع فکری صلاحیت کا ضامن ہے۔ "فیصل آباد کی ادبی تاریخ" لکھ کر انہوں نے نہ صرف اپنے شہر کا قرض اتارا ہے بلکہ آنے والی نسلوں کے لیے تحقیق کی ایک ایسی شاہراہ تعمیر کر دی ہے جس کی روشنی میں اس خطے کے ادبی سفر کو ہمیشہ درست سمت میں سمجھا جاتا رہے گا۔
تحقیق علم کے بند کواڑ کھولنے اور تاریخ کو مسخ ہونے سے بچانے کا نام ہے۔ ڈاکٹر اظہار احمد گلزار کا اصل میدان تحقیق ہے اور اس میدان میں انہوں نے وہ کارہائے نمایاں سرانجام دیے ہیں جو صدیوں تک یاد رکھے جائیں گے۔
فیصل آباد کی ادبی تاریخ (پی ایچ ڈی مقالہ):
آپ کا سب سے بڑا اور تاریخی کارنامہ فیصل آباد کی ادبی تاریخ پر تحریر کیا گیا ضخیم پی ایچ ڈی مقالہ ہے۔ اس خطے کو پہلے لائل پور اور اب فیصل آباد کہا جاتا ہے، لیکن اس کی ادبی خدمات بکھری ہوئی تھیں۔ ڈاکٹر اظہار احمد گلزار نے برسوں کی محنت، اسفار اور عرق ریزی سے اس خطے کے ایک ایک شاعر، ادیب اور صحافی کے کام کو یکجا کر کے اسے ایک مستند تاریخ کی شکل دی۔ یہ محض ایک مقالہ نہیں بلکہ فیصل آباد کے ادبی عروج و زوال کی ایک ایسی دستاویز ہے جس کے بغیر اب اس خطے کی کوئی ادبی تاریخ مکمل نہیں ہو سکتی۔
غیر مسلم شعراء کی نعت گوئی اور ڈاکٹر اظہار احمد گلزار کی تحقیقی کاوش
سارا عالم ہے منور آپ کے انوار سے" (غیر مسلم نعت گو شعراء پر تحقیق):
ڈاکٹر اظہار احمد گلزار نے اپنی اس بے مثل تصنیف میں تاریخ کے ایک ایسے سنہرے باب کو وا کیا ہے جو انسانیت، رواداری اور آفاقی محبت کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ غیر مسلم شعراء—خواہ ان کا تعلق ہندو مت سے ہو، سکھ ازم سے یا مسیحیت سے—جب بارگاہِ رسالت مآب ﷺ میں نذرانۂ عقیدت پیش کرتے ہیں، تو ان کے الفاظ میں خلوص اور جذبوں کی ایک ایسی سحر انگیزی ہوتی ہے جو مذہب کی تفریق سے بالاتر ہو کر دلوں کو چھو لیتی ہے۔ ان شعراء نے حضور اکرم ﷺ کی ذاتِ گرامی کو صرف مسلمانوں کے رہبر کے طور پر نہیں، بلکہ "رحمت اللعالمین" اور پوری کائنات کے لیے سراپا نور مان کر اپنے کلام کا محور بنایا ہے۔ ڈاکٹر اظہار نے ان غیر مسلم سخن وروں کے ہاں موجود اسی قلبی وابستگی اور والہانہ پن کو نہایت خوبصورتی سے پرکھا ہے، جس کا مطالعہ قارئین پر یہ حقیقت آشکار کرتا ہے کہ آپ ﷺ کی سیرتِ طیبہ کا سحر ہر رنگ، نسل اور مذہب کے انسان کو اپنی گرفت میں لے لیتا ہے۔
ڈاکٹر اظہار احمد گلزار کی یہ تحقیقی کاوش محض ادبی جمع تفریق نہیں، بلکہ بکھرے ہوئے موتیوں کو ایک لڑی میں پرونے کا وہ مقدس فریضہ ہے جو انہوں نے کمالِ جاں فشانی اور عشقِ رسول ﷺ میں ڈوب کر سرانجام دیا ہے۔ انہوں نے برسوں کی محنت سے تاریخ کے اوراق میں پوشیدہ ان ہندو، سکھ اور عیسائی شعراء کے نعتیہ کلام کو یکجا کیا ہے جو اب تک گمنامی کے اندھیروں میں تھے یا جن تک عام قارئین کی رسائی ممکن نہ تھی۔ ان کا یہ کام اس لیے بھی منفرد ہے کہ انہوں نے تنقیدی اور تحقیقی اصولوں کو برقرار رکھتے ہوئے، اس گلدستے کو ایسی تخلیقی ترتیب دی ہے کہ ہر نعت پلکوں پر آنسوؤں کے چراغ روشن کرتی دکھائی دیتی ہے۔ ڈاکٹر اظہار کی یہ تالیف لطیف اردو نعت کے ادبی اثاثے میں ایک گراں قدر اور تاریخی اضافہ ہے، جو رہتی دنیا تک نعت کے محققین اور جان نثاروں کے لیے مشعلِ راہ بنی رہے گی۔ڈاکٹر اظہار احمد گلزار کی تحقیقی وسعت کا اندازہ ان کی اس منفرد کتاب سے ہوتا ہے۔ اردو ادب میں غیر مسلموں کی نعت گوئی پر کام تو ہوا ہے، لیکن ڈاکٹر اظہار احمد گلزار نے جس علمی سنجیدگی اور غیر جانبداری کے ساتھ ایسے شعراء کو تلاش کیا جنہوں نے اسلامی روایات اور حضور اکرم ﷺ کی بارگاہ میں عقیدت کے پھول نچھاور کیے، وہ اپنی مثال آپ ہے۔ یہ کتاب ان کے وسیع مطالعے اور علمی دیانت کا منہ بولتا ثبوت ہے۔
2۔ بحیثیت نقاد (The Literary Critic)
تنقید کسی بھی ادب کی سمت کا تعین کرتی ہے۔ ڈاکٹر اظہار احمد گلزار کا رویہ تنقید میں روایتی نقادوں کی طرح تخریبی یا ذاتی عناد پر مبنی نہیں، بلکہ تعمیری اور معتدل ہے۔
متوازن رویہ: وہ فن پارے کو کسی مخصوص نظریاتی عینک سے دیکھنے کے بجائے اس کے داخلی محاسن اور معائب کا جائزہ لیتے ہیں۔ ان کا مقصد تخلیق کار کی دل شکنی کرنا نہیں بلکہ فن پارے کی روح تک پہنچ کر قاری کے لیے اس کی تفہیم کو آسان بنانا ہوتا ہے۔
ذولسانی تنقید (اردو اور پنجابی): ڈاکٹر صاحب کو اردو اور پنجابی دونوں زبانوں پر یکساں دسترس حاصل ہے۔ انہوں نے دونوں زبانوں کے شعری و نثری سرمائے پر جو تنقید لکھی ہے، وہ معاصر ادبی حلقوں میں قدر کی نگاہ سے دیکھی جاتی ہے۔ وہ بحر، وزن، اور عروض کے معاملات میں جتنے سخت ہیں، اسلوب کے معاملے میں اتنے ہی نرم خو اور مصلح مزاج ہیں۔
3۔ نعت گوئی اور سیرت نگاری کا والہانہ اسلوب (The Seerat Writer)
ڈاکٹر اظہار احمد گلزار کے فکر و فن کا ایک انتہائی جاندار اور بابرکت پہلو ان کی نعت گوئی اور سیرت نگاری ہے۔ ان کا قلم جب مدحتِ رسول ﷺ میں اٹھتا ہے تو عقیدت اور علمیت کا ایک حسین سنگم دیکھنے کو ملتا ہے۔
سیرت نگاری میں مستند حوالوں کا التزام:
سیرت نگاری میں عام طور پر خطیبانہ انداز اختیار کیا جاتا ہے، لیکن ڈاکٹر صاحب چونکہ بنیادی طور پر محقق ہیں، اس لیے ان کی سیرت نگاری میں جذبات کے ساتھ ساتھ مستند تاریخی حوالوں کی فراوانی ہوتی ہے۔ انہوں نے حیاتِ طیبہ ﷺ کے مختلف سماجی، معاشی اور اخلاقی گوشوں پر قلم اٹھا کر دورِ حاضر کے قارئین کے لیے ایک بہترین علمی و عملی مواد فراہم کیا ہے۔
ڈاکٹر اظہار احمد گلزار کی سیرت نگاری کے حوالے سے ممتاز محقق، نقاد، شاعر اور مؤرخ سید تنویر بخاری ان کی تصنیف " فخر کائنات ﷺ " کے فلیپ پر لکھتے ہیں ۔
"سیرت النبی ﷺ ایک ایسا جامع اور پاکیزہ موضوع ہے جس میں سیرت نگار عشق و محبت کی دولت سے سرشار ہو کر عقیدت و نیاز مندی کا پیکر بن کر رنگ و نگہت کے وہ پھول پیش کرتا ہے جس کی تابانی اور تازگی کبھی ماند نہیں پڑتی۔ ’’فخرِ کائنات‘‘ جامع الصفات، رحمۃ للعالمین، کائنات کی بہارِ اوّلین، محسنِ انسانیت، داعیِ امن و اخوت، نیّرِ تاباں، رحمتِ بیکراں، آفتابِ درخشاں، آقائے دو جہاں، ختم المرسلین حضرت محمد ﷺ کی اسی مدح خوانی کا اظہار ہے۔ جو کلامِ الٰہی کے مضمرات میں پنہاں ہے۔ اظہار احمد نے اظہارِ عشقِ احمد مصطفیٰ ﷺ کے لیے جو گلہائے عقیدت پیش کیے ہیں، انہی کی نسبت سے وہ ’’گلزار‘‘ کہلانے کا مستحق ہے۔ وہ افسانہ نگاری، شاعری اور تحقیق و تنقید کے بیابانوں کی خاک چھانتے ہوئے بتدریج محفلِ میلاد النبی ﷺ تک پہنچا ہے۔ اسی محفلِ جاں پرور نے اسے عشقِ رسول ﷺ سے سرشار کیا ہے کیونکہ عشقِ رسولؐ ایک مسلمان کا سرمایۂ افتخار اور سرمایۂ حیات ہے۔ کائنات اسی عشق کے محور پر رقص کر رہی ہے۔ زندگی کو حرارت اور روح کو تازگی اسی عشق کی بدولت نصیب ہوتی ہے۔ دعا ہے کہ اب اظہار احمد گلزار کا یہ عشق جنون میں مبدل ہو جائے اور اسے ’’صلّ علیٰ محمد‘‘ کے علاوہ دنیا و مافیہا کی کوئی خبر نہ رہے۔ آمین"
نعت گوئی کا فکری پہلو:
ان کی نعت گوئی محض الفاظ کا گورکھ دھندا نہیں بلکہ اس میں حضور ﷺ کی ذاتِ گرامی سے سچی محبت، تڑپ اور امت کے احوال پر اضطراب پایا جاتا ہے۔ ان کی نعتوں میں فنی پختگی اور بحور کا درست استعمال ان کے شعری مرتبے کو بلند کرتا ہے۔ ڈاکٹر اظہار احمد گلزار کی نعت گوئی ان کے گہرے فکری شعور، والہانہ فداکاری اور فنی پختگی کا ایک خوبصورت مظہر ہے۔ ان کی نعتوں میں روایتی عقیدت کے ساتھ ساتھ ایک عصری اور فکری رنگ بھی جھلکتا ہے، جو انہیں محض رسمی الفاظ کا مجموعہ بنانے کے بجائے دل سے نکلنے والی ایک سچی صدا بناتا ہے۔ ڈاکٹر اظہار احمد گلزار نے نعت کے تقدس اور اس کے فن دونوں کو یکساں اہمیت دی ہے۔ صنفِ نعت کی نازک پسِ منظر کو ملحوظِ خاطر رکھتے ہوئے، ان کا قلم ہمیشہ عجز و انکسار اور احترامِ رسالت مآب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دائرے میں رہ کر مدحت طرازی کرتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ان کی نعت گوئی میں جہاں ایک طرف جذبوں کی فراوانی نظر آتی ہے، وہاں دوسری طرف الفاظ کا انتخاب اور اسلوب کا وقار نعت کے اعلیٰ معیار پر پورا اترتا ہے۔
ان کی نعتیہ شاعری کا ایک نمایاں پہلو یہ بھی ہے کہ وہ صرف ماضی کے تاریخی واقعات یا روایتی مضامین تک محدود نہیں رہتے، بلکہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سیرتِ طیبہ اور تعلیمات کو موجودہ دور کے سماجی و اخلاقی مسائل کے حل کے طور پر پیش کرتے ہیں۔ ڈاکٹر اظہار احمد گلزار نے نعت کو ایک متحرک صنف کے طور پر برتا ہے، جس میں امتِ مسلمہ کی زبوں حالی کا علاج اور انسانیت کی فلاح کا راستہ اسوہ حسنہ میں تلاش کرنے کی بھرپور ترغیب ملتی ہے۔ ان کا فکری کینوس وسیع ہے، جس میں آقا دو جہاں صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ذاتِ گرامی سے محبت کو زندگی کا اصل حاصل اور دونوں جہانوں کی کامیابی کا ضامن قرار دیا گیا ہے۔
فنی نقطہ نظر سے، ڈاکٹر اظہار احمد گلزار کی نعت گوئی میں بحروں کا انتخاب، ردیف و قوافی کی جدت اور روانیِ بیان قاری کو اپنے سحر میں جکڑ لیتی ہے۔ وہ صوتی آہنگ اور لفظی تراکیب کو اس مہارت سے یکجا کرتے ہیں کہ پوری نعت میں ایک خاص قسم کا روحانی ترنم اور سوز و گداز پیدا ہو جاتا ہے۔ ان کی نعتوں کا مجموعی تاثر یہ ابھارتا ہے کہ نعت گوئی ان کے لیے محض ایک ادبی صنف نہیں، بلکہ ان کی روح کی غذا، عقیدت کا محور اور آخرت کا اثاثہ ہے۔ ان کا یہ مجموعی نعتیہ رنگ قارئین کے دلوں میں عشقِ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی شمع کو مزید روشن کرنے کا ایک معتبر ذریعہ ہے۔
4۔ خود نوشت اور سوانحی ادب (Autobiography)
کسی بھی ادیب کے لیے اپنی زندگی کو بے لاگ انداز میں کاغذ پر منتقل کرنا سب سے کٹھن کام ہوتا ہے۔ ڈاکٹر اظہار احمد گلزار نے اس آزمائش میں بھی خود کو سرخرو کیا۔
"لالٹین سے پی ایچ ڈی تک" (ایک شاہکار خود نوشت):
یہ کتاب ڈاکٹر صاحب کی انشا پردازی، اسلوب کی شگفتگی اور بیانیے کی جادوگری کا عروج ہے۔ اس خود نوشت میں انہوں نے اپنی زندگی کے ابتدائی دور کی صعوبتوں، لائل پور کے پرانے دنوں، لالٹین کی مدہم روشنی میں مطالعے کی شب بیداریوں سے لے کر علم کی معراج یعنی پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کرنے تک کے کٹھن سفر کو جس سچائی اور خوبصورتی سے قلمبند کیا ہے، وہ قاری کو اپنے سحر میں جکڑ لیتا ہے۔ یہ کتاب صرف ایک فرد کی کہانی نہیں بلکہ ہر اس طالب علم کے لیے مشعلِ راہ ہے جو نامساز حالات کے باوجود کچھ کر گزرنے کا عزم رکھتا ہے۔
5۔ خاکہ نویسی اور شخصیت نگاری (The Essayist/Stylist)
انشا پردازی اور قلمی خاکوں (Qalmi Khakas) میں ڈاکٹر اظہار احمد گلزار صاحب کا قلم ایک مصور کے برش کی طرح کام کرتا ہے، جو کسی بھی شخصیت کے ظاہری اور باطنی اوصاف کو ہو بہو کھینچ کر رکھ دیتا ہے۔
قلمی خاکوں کا فن:
ڈاکٹر اظہار احمد گلزار نے اپنے ہم عصروں، اساتذہ اور ماضی کی نامور ادبی شخصیات پر جو خاکے لکھے ہیں، ان میں طنز و مزاح کی دھیمی آنچ بھی ہے اور محبت کا خلوص بھی۔ وہ شخصیت کی خامیاں اس طرح بیان کرتے ہیں کہ اس کی عزت پر حرف نہیں آتا اور خوبیاں اس طرح اجاگر کرتے ہیں کہ مبالغہ آرائی کا گمان نہیں ہوتا۔ ان کی نثر کا بہاؤ، لفظوں کا انتخاب اور جملوں کی ساخت قاری کے دل میں اترتی چلی جاتی ہے۔
ڈاکٹر اظہار احمد گلزار کی ادبی کائنات کا مجموعی جائزہ لیا جائے تو یہ بات روزِ روشن کی طرح عیاں ہوتی ہے کہ وہ عصرِ حاضر میں فیصل آباد کے ہی نہیں بلکہ پورے ملک کے ادبی منظر نامے کا ایک قیمتی اثاثہ ہیں۔ ان کی پنجابی کہانیاں (جیسے "سوچان بھران کلاوے") جہاں لوک ورثے اور دیہی ثقافت کی امین ہیں، وہاں ان کی اردو تحقیقی و تنقیدی تصانیف علم و دانش کے نئے در وا کرتی ہیں۔
بلا شبہ' ان کے فن کے یہ چاروں پہلو (تحقیق، تنقید، سیرت نگاری اور انشا پردازی) نہایت نمایاں اور معتبر ہیں۔ ڈاکٹر اظہار احمد گلزار نے اپنے قلم کے ذریعے علم و ادب کی جو شمع روشن کی ہے، اس کی روشنی آنے والی نسلوں کو ہمیشہ راہ دکھاتی رہے گی۔ وہ سچے معنوں میں ایک ایسے "ادبی انسائکلوپیڈیا" ہیں جن کی جتنی پذیرائی کی جائے، وہ کم ہے