cat > /home/apnaorg/public/wp/wp-content/mu-plugins/apna-columnists-hub.php <<'PHP'
Dr. Sughra Sadaf

کراچی میں سب سے بڑا ادبی میلہ

By Sughra Sadaf
Daily Jang — December 16, 2021 / 12:00 am

کراچی میں سب سے بڑا ادبی میلہ سجا جس میں روح و دل کے بے شمار لوازمات موجود تھے۔ اسموگ اور کووڈ کی قید میں الجھے ہوئے دل اس کانفرنس یا میلے میں یوں شامل ہوئے کہ جیسے اس میں ان کے لیے زندگی کا پیام جڑا ہو اہو،ادبی میلے میں لوگوں کا ولولہ دیکھ کے دل کو عجیب سی خوشی ہورہی تھی۔ کسی چہرے پر ناامیدی کے سائے نہیں تھے، ہر کوئی پرجوش تھا، ہنستے مسکراتے اور گنگناتے چہروں کے ساتھ ایک دوسرے سے سلام دعا کے سلسلے چل رہے تھے۔ویسے تو میلے میں ہر عمر کے لوگ شریک تھے لیکن نوجوانوں کی تعداد پہلے سے کہیں زیادہ تھی، آڈیٹوریم لوگوں سے بھرا ہوا تھا تو باہر جون ایلیا لان میں سجایا گیا اسٹیج بھی آباد تھا اور اس کے سامنے رکھی کرسیاں بلکہ چاروں طرف لوگوں کی قطاریں تیرتی نظر آتی تھیں-اتنا بڑا میلہ سجانا آسان کام نہیں، ظاہر ہے ان کے پاس ایک بہت متحرک ٹیم ہے لیکن ٹیم کے لیڈر کو ہر وقت چوکس اور فعال رہنا پڑتا ہے نگرانی کرنی پڑتی ہے احمد شاہ کے پاس لگتا ہے جادوئی قوتیں ہیں وہ انتظامات بھی دیکھتا رہا، لوگوں سے ہشاش بشاش چہرے کے ملتا نظر آیا اور دوستوں کے مزاح پر قہقہے بھی لگارہا تھا۔اس بار پاکستان آرٹس کونسل کراچی میں بہت کچھ بدلا ہواتھا۔بہت کچھ نیا بنا ہے سات منزلہ عمارت بنائی گئی ہے جس میں جدید سازوسامان سے آراستہ اسٹوڈیوز،ہال اور دفاتر ہیں۔میں نے شروع میں کہا کہ یہ اردو کانفرنس شاید دنیا کا سب سے بڑا ادبی میلہ ہے، اس لیے کہ اس میں دنیا بھر سے لفظ کی حرمت اور لفظ کے ذریعے زندگی میں خیر لانے والے شرکت کرتے ہیں، وہ لوگ جنہیں عام دنوں میں دیکھنا اور ملنا ممکن نہیں ہوتا علم وادب کی طلب رکھنے والے ان کی بات چیت سنتے ہیں فکر کو غذا ملتی ہے،فکر کے نئے در کھلتے ہیں، زندگی کے راز نئے انداز میں افشا ہوتے ہیں،معنی تک رسائی حاصل ہوتی ہے۔ معاملات کی گہرائی تک حقیقت کا سراغ لگا کر الجھنوں کو سلجھایا جاتا ہے۔اس بار آرٹس کونسل کے اپنے بینڈ کے نوجوان لڑکے لڑکیوں نے عظیم شاعر فیض احمد فیض کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے جدید انداز میں ان کا کلام پیش کر کے ہر طرف سحر طاری کردیا، فیض احمد فیض کا لکھا اور نوجوان لڑکیوں لڑکوں کا گایا کلام،’’ہم دیکھیں گے،لازم ہے کہ ہم بھی دیکھیں گے‘‘۔دراصل اس جذبے کی عکاسی ہے کہ ہماری نوجوان نسل اس ملک کو سنوارے گی،کسی کا استحصال نہیں کرے گی،عدل کے سامنے سرنگوں ہونے کی رسم ڈالے گی اور معاشرے میں ہر نا انصافی اور ظلم کے خلاف آواز بلند کرے گی۔قانون کا شملہ بلند کرے گی، دلیل کے ذریعے، محبت کے ذریعے تبدیلی لائے گی۔رقص اعضا کی شاعری ہے۔خوبصورت شعروں کو رقص کے انداز میں ڈھالنا بھی ایک بڑا فن ہے۔انسان لفظوں کا پتلا بن جاتا ہے اور لفظ مجسم ہوکر انسان کی شکل دھار لیتے ہیں۔ شعروں کا مفہوم بیان کرتے ہوئے کائنات کو سمیٹ کرا سٹیج پر لے آتے ہیں۔ہر شے دائرے میں جھومنے لگتی ہے۔ ہاتھوں سے آنکھوں سے بلکہ وجود کے ہر اشارے سے دیپ روشن ہونے لگتے ہیں اور سامنے بیٹھے لوگ ایک خاص کیفیت میں ڈوب جاتے ہیں جو روح کو سرشار اور نہال کرتی ہے،سوچ کو وسعت کے دائرے میں لاتی ہے۔ڈاکٹر ہما میر کو میں گزشتہ کئی برسوں سے اس کانفرنس کی انتظامیہ میں اپنے فرائض بھرپور طریقے سے نبھاتے ہوئے دیکھ رہی ہوں،ڈاکٹر ہما میر جتنی خوبصورت آرٹسٹ ہیں اتنی ہی شفاف سوچ کی مالک ہیں۔ان کو میں گزشتہ کئی سال سے اس کانفرنس کی انتظامیہ میں اپنے فرائض بھرپور طریقے سے نبھاتے ہوئے دیکھ رہی ہوں۔ ایک سلجھی ہوئی،گہرائی تک چیزوں کو جاننے والی، اسرار اور انکشاف کے درمیان کھڑی ہما میر سے ملاقات ہمیشہ خوشگوار ہوتی ہے لیکن اس بار موقع زیادہ ملا انہوں نے میرے لیے سمندر کنارے ایک خوبصورت مقام پر محبت بھرا اہتمام کیاجس میں ہر دلعزیز گلوکار محمد علی شہکی،آواز کی دنیامیں نئے رنگ لے کر آنے والے عارف انصاری سمیت بہت سے خوبصورت لوگ شامل ہوئے۔پھر ایسی ہی ایک محفل پی ٹی وی کراچی کے پروگرام منیجر امجد شاہ جو خود بہت اچھے شاعر اور میوزیشن ہیں نے پی ٹی وی میں رکھی۔عروسہ اور ڈاکٹر ہمامیر نے سُر کے وہ رنگ بکھیرے کہ دل پر جمی اسموگ پگھل کر اڑ گئی اور لطافت نے روح و بدن کو شادمان کر دیا۔اختر علی اختر،محمد علی شہکی،محسن رضوی نے منفرد انداز گائیکی کے ذریعے ماحول کو خوبصورت بنائے رکھا۔