کچھ لوگوں کو موت کے خوف میں بائولا ہوا دیکھتی ہوں جن کے پاس بے شمار وسائل اور تعیشات کے وسیع سلسلے ہیں مگر انہیں نہ دن کا سکون میسر ہے نہ رات کی نیند کا قرار، تو حیرت ہوتی ہے وہ گنے چنے اور ہر روز کم ہونے والے دنوں کو خوف کی آگ میں پھونکتے جارہے ہیں۔ ہم سب جانتے اور یقین رکھتے ہیں کہ جو رات قبر میں ہے اسے ٹالا نہیں جاسکتا۔ بڑے بڑے طاقتور آئے، زمانے کو انگلی کے اشارے پر نچایا، چلایا مگر جب اپنا جانے کا وقت آیا تو کوئی طبیب کام آیا نہ تدبیر کارگر ہوئی اور نہ رعب دبدبہ موت کے لمحے کو ٹال سکا، دراصل موت کے فرشتے کو جب کسی روح کو واپس لانے کا حکم جاری ہو جاتا ہے تو پھر وہ مطلوبہ جان لے کر ہی جاتا ہے بھلے وہ سمندر کی تہہ میں، محفوظ قلعوں یا فضائوں میں ہو۔ آخر اس حکم والی ذات پر انسان کو بھروسہ کیوں نہیں؟ وہ کیوں اس کا سامنا کرنے سے ڈرتا ہے۔ کیونکہ اگلا جہان کسی نے دیکھا نہیں اسلئے تھوڑا بہت ڈر اور خدشہ ہر دل میں ہو سکتا ہے لیکن جو موت کو سر پر سوار ہی کرلے اس کے نفسیاتی مسئلے بھی ہوتے ہیں اور شدید ترین گِلٹ بھی۔ ایسا فرد اپنی اصلیت جانتا ہے اور اس سے خوفزدہ ہوتا ہے، اسے خبر ہوتی ہے کہ وہ دنیا کو دھوکا دے سکتا ہے مالک کو نہیں، اس لئے موت کا ڈر محاسبے کا ڈر بن کر اس کی شخصیت پر طاری ہوجاتا ہے۔
کائنات ایک عجیب قسم کی اسٹیج ہے جس پر مختلف کردار آتے جاتے رہتے ہیں۔کس کو کتنی دیر ٹھہرنا ہے اور کیا کردار ادا کرنا ہے یہ فیصلہ اور اسکرپٹ قدرت نے ہر فرد کو دے کر بھیجا ہے۔ جو بھی فرد اپنی ذات پر توجہ دیتا ہے اسے اسکرپٹ کی عبارت دکھائی اور سلجھائی دینے لگتی ہے اور اگر وہ اس کے مطابق اپنی زندگی گزارنے کی کوشش کرے تو کامیاب ٹھہرتا ہے۔ اسلئے کہ اس اسکرپٹ کے مطابق اس کی ذات کے اندر مشینری فٹ کی گئی ہوتی ہے یعنی ایسے رجحانات عطا کئے جاتے ہیں جو کسی مخصوص شعبے میں ضروری ہوتے ہیں۔ کروڑوں سالوں سے یہ کائنات آباد ہے اور جانے کب تک آباد رہے۔ کبھی کبھی ہمارے سامنے کچھ ایسے واقعات رونما ہوتے ہیں جو خدا کی موجودگی کے ساتھ ساتھ اس کی قدرت کی بے نیازی کو بھی عیاں کرتے ہیں۔ میں ظفر مسعود صاحب کی آپ بیتی پڑھ رہی تھی جس میں انہوں نے جہاز کریش ہونے کے پورے واقعے کو بڑی تفصیل اور گلوگیر و پر تشکر لہجے میں بیان کیا ہے۔ اب یہ عام واقعہ نہیں ہے۔ تصور کیجئے اتنا بڑا جہاز جب گرتا ہے تو ایسے بکھرتا ہے کہ لوہے کے ٹکڑے ادھر ادھر اڑتے نظر آتے ہیں وہاں گوشت پوست کا انسان کس طرح محفوظ رہ سکتا ہے۔ یہ کوئی اتفاق نہیں تھا بچت کے تمام طریقے سیٹ کر دئیے گئے تھے۔ جہاز میں وہ سیٹ عنایت کی گئی جس کو اٹھا کر گاڑی کے اوپر رکھا جائے اور اگر زندگی مقصود نہ ہوتی تو وہ سیٹ سخت سڑک پر بھی گر سکتی تھی اور کوئی تیز رفتار گاڑی اس کو ٹھوکر مارتی اڑا کر رکھ سکتی تھی جہاز سے بذریعہ چھت لینڈ کرتے ہوئے ٹانگوں اور گھٹنوں پر جو چوٹیں آئیں وہ سر پر بھی آسکتی تھیں لیکن صرف درد کا احساس دلانا مقصود تھا زندگی کو ختم کرنا نہیں۔ ایک وجہ یہ بھی کہ قدرت نے جو امکانات اور صلاحیتیں کسی وجود میں رکھی ہوتی ہیں جب تک ان کی میعاد باقی ہوتی ہے، ایسی زندگی کو خدا اپنے خاص کرم سے باقی رکھتا ہے، کہ اس سے کوئی بڑا کام لینا مقصود ہوتا ہے۔ ظفر مسعود صاحب ایک انتہائی قابل انسان ہیں انہوں نے اپنی قابلیت سے اپنے ادارے اور ملک کی معیشت کو سنبھالا دینے کیلئے احسن اقدامات کرکے ایک عالم سے پذیرائی وصولی ہے۔ وہ شاندار علمی اور ادبی بیک گراؤنڈ رکھتے ہیں اور ان کی اپنی ذات میں علم و ادب کی چاشنی بھری ہوئی ہے۔ موت سے ڈرنے والے ان کی زندگی کی مثال سامنے رکھیں اور جیتے جی سروں سے خوف کے کالے تابوت اتار پھینکیں۔ یاد رہے پوری انسانی تاریخ میں ایسا کوئی واقعہ موجود نہیں جب کوئی جادوئی ٹوپی موت کے فرشتے کی راہ روک سکی ہو، سو سکون سے جئیں اور دوسروں کو جینے دیں۔ دل اور ذہن کو ایک ٹریک پر لا کر خلقِ خدا کی خدمت و بھلائی سے جُڑ جائیں خدا بھی مل جائے گا اور اطمینان قلب بھی۔ دنیا آپ سے پہلے بھی چل رہی تھی اور بعد میں بھی چلتی رہے گی۔ دنیا کا بادشاہ جانے۔