آٹھ مارچ زندگی کی سڑک پر بکھری خار دار حدبندیوں سےٹکراتی،مجبور رسموں کو ٹھکراتی،رجعت پسندی کو للکارتی،ہر قسم کی تفریق،تقسیم اور رکاوٹوں کو عبور کرنے کی خواہش رکھنے والی معاشرے کی توانا فرد کی صلاحیتوں کے اعتراف کا دن ہے۔اور اس میں ہر با شعور انسان کی شعوری جدوجہد شامل ہے۔اصل مسئلہ تسلیم کرنے کا ہے۔ ہمارے ہاں کچھ معاملات اور چیزوں کو بادلِ نخواستہ قبول توکر لیا جاتا ہے مگر تسلیم نہیں کیا جاتا۔عورت کے حوالے سے دنیا بھر کا سماج پدر سری سوچ کے غلبے میں ہے۔بات صرف تعلیم،ملازمت،مرضی کی شادی تک محدود نہیں،اسے رہنما تسلیم کرنے اور اس کی صلاحیتوں کا اقرار کرنے کی ہے۔امریکہ جیسے ملک میں آج تک عورت حکومت کی سربراہ نہیں بن سکی،یقیناً جس دن سپر پاور کی باگ ڈور عورت کے ہاتھ میں آئے گی دنیا میں عورت کی سربراہی کو توقیر ملے گی۔ہر عورت اور مرد صلاحیتوں کے مختلف درجوں پر ہوتے ہیں۔ استحصال تب ہوتا ہے جب ایک قابل عورت پر کم عقل مرد کو ترجیح دی جائے۔پاکستان میں حالات بدل رہے ہیں لیکن اب بھی بہت بڑی تعداد سوچ کے بنجر مرحلے میں ہے،جس کی واضح مثال یہ ہے کہ مخصوص اداروں میں برتری اور ٹھیکیداری کی تربیت حاصل کرنے والوں اور ملکی اور غیر ملکی جدید یونیورسٹیوں کے لیبل والے اذہان کی گفتگو اور رویے میں کوئی خاص فرق نہیں۔ عاصمہ شیرازی،غریدہ فاروقی،ریماعمر اور دیگر جرأت مند اظہار کرنے والی خواتین صحافیوں اور تجزیہ نگاروں کی رپورٹنگ اور تجزئیے پر منطقی جواب دینے کی بجائے انھیں صنفی حوالے سے طنز اور گالی گلوچ کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔یہی حال سیاستدان خواتین کا ہے۔ مردوں کی ایک بڑی تعداد انھیں برداشت کرنے کو تیار نہیں۔متقی شکل کے بہروپئوں کی عورتوں کے خلاف تضحیک آمیز گفتگو سن کر ان کی سوچ کی پستی پر حیرانی ہوتی ہے۔ہم نے بہت قانون بنالئے اب روئیے تبدیل کر کے دیکھیں۔رویوں میں نفرت اور تحقیر کا عالم دیکھنا ہو تو سماج میں ہونے والے بربریت کے واقعات ملاحظہ کریں۔
مرد جب کسی مرد سے دشمنی کرتا ہے تو اسے جان سے مارنے کی کوشش کرتا ہے لیکن عورت مقابل ہو تو اسے بدترین اذیت دیتا ہے، اس پر تیزاب پھینکتا ہے،اس کے وجود کو بدصورت بنانے کی آخری حد تک سعی کرتا ہے ، وہ اس کی عزت پر وار کرتا ہے ،اسے بدنام کرتا ہے، اس کی یوں تشہیر کرتا ہے کہ معاشرے میں اس کا وقار تہس نہس ہوجائے اور وہ زندگی کی سڑک پر اعتماد سے چلنے نہ پائے، مرد کو ڈگمگاتی،کم عقل اور سہارے طلب کرتی عورت پسند ہے جو اسے دیوتا بنا کر پوجتی رہے۔ اسی سوچ کے زیرِ اثر ہماری نسل کو ہم مائیں،بہنیں بیٹیاں کے کردار تک محدود کردیا گیا۔ حالانکہ مرد جب ایک فرد کے طور پراپنی شناخت رکھتا ہے تو ساتھ بیٹا،بھائی اور باپ کا کردار بھی نبھا رہا ہوتا ہے۔اسے محدود نہیں کیا جاتا تو اسی جیسی صلاحیتیں رکھنے والی عورتوں کے لئے دائرے اور لکیریں کیوں کھینچی جاتی ہیں۔ جنگوں،جھگڑوں اور رشتوں کے معاملات سنوارنے کیلئے اس کی قربانی کیوں دی جاتی ہے۔ صدیوں عورت نے خود کو بے توقیر کرنے کی جو اجازت سماج کے ٹھیکیداروں کو عنایت کر رکھی تھی آج کی عورت اس سے دستبردار ہو کر وقار کے رستے پر رواں دواں ہے۔جب وہ اپنے وجود پر کسی کے ظلم و جبر کو رَد کرتی ہے تو اس میں برائی یا بدتہذیبی کیسی۔ آج تک یہ سمجھ نہیں آئی کہ میرا وجود میری مرضی کا مطلب فحاشی کیسے ہوگیا، اس کا مطلب یہ ہے کہ میں ایک باشعور فرد ہوں،اپنی صلاحیتوں کے مطابق ایک مفید اور باشعور شہری کے طور پر زندگی کروں گی۔کسی جابر کو اپنا استحصال نہیں کرنے دوں گی۔ جو لوگ اس سے یہ مراد لیتے ہیں کہ عورت کو آزادی ہوگی تو معاشرے میں فحاشی پھیلے گی ان کی سوچ پر ملامت کی جاسکتی ہےکہ عورت کا استحصال کرنے والے تمام ادارے اسی غاصب سوچ کے ہاتھ میں ہیں۔مقابل قوتیں عورت مارچ کے پوسٹرز کو ایڈٹ کر کے غم وغصے کا اظہار نہیں کرتیں، عورتوں کے حوالے سے اپنی متعصبانہ سوچ کا اظہار کرتی ہیں۔ آج کی عورت ان فکری اور مہربان مردوں کی مشکور ہے جو اس کی جدوجہد میں شریک ہوئے۔ برسوں پہلے میرے مڈل پاس لیکن نظریاتی حوالے سے معتبر سوچ کے حامل والد راجہ ولایت شاہسوار نے جب مجھے اسکول بھیجا تو کسی سے نہ ڈرنے کا مشورہ دیتے ہوئے کہا کہ اگر کوئی راستہ روکے تو خوفزدہ نہ ہونا، پتھر مارنا میں دیکھ لوں گا۔ اتنے برس بیت گئے۔ اس بات نے جو حوصلہ اور اعتماد دیا اس نے کسی کو حملہ کرنے کی جرأت ہی نہ دی۔وہ پتھر آج بھی میرے ارادے کے ہاتھ میں میرے اعتماد کا باعث ہے۔ آٹھ مارچ کو قبول کریں اور عورت کے وجود اور اس سے جڑے حقائق کو تسلیم کریں۔