cat > /home/apnaorg/public/wp/wp-content/mu-plugins/apna-columnists-hub.php <<'PHP'
Dr. Sughra Sadaf

بلھے شاہؒ کا عرس اور سیلاب

By Sughra Sadaf
Daily Jang — August 29, 2022 / 12:00 am

لاہور سے منسلک شہرقصور میں سید عبداللہ شاہ المعروف بابا بلھے شاہؒ کا 265واں عرس جاری و ساری ہے۔بلھے شاہؒ پنجاب کے وہ قد آور فلسفی اور شاعر ہیں جن کی فکر پر آفاقی رنگ غالب ہے۔ان سے محبت اور عقیدت صرف پنجابی زبان بولنے اور سمجھنے والوں تک محدود نہیں، سندھ،خیبر پختونخوا، بلوچستان، گلگت اور کشمیر کے لوک گلوکار بھی انہیں اپنے انداز میں گاتےاور ان کا پیغام لوگوں تک پہنچاتے ہیں۔پاکستان سے باہر بھی ایک عالم ان کی حیرت انگیز شاعری اور فلسفے کا مداح ہے۔کئی زبانوں میں ان کے کلام کے تراجم ہو چکے ہیں۔ عرس کے دنوں میں وہاں آپ کو ہر فرقے اور عقیدے کا فرد ملے گا۔ پاکستان آنے والے اور مختلف مذاہب سے تعلق رکھنے والے صاحبِ علم و دانش ان کے ڈیرے پر حاضری کو اپنے لیے باعثِ سعادت سمجھتے ہیں۔

وہ صرف پاکستان میں رہنے والوں کے ہی نہیں بلکہ دنیا بھر میں وحدتِ انسانی کی بات کرنے والوں کے مرشد ہیں،ایک ایسا مرشد جس کی جیون کتاب کا اک اک صفحہ سب چاہنے والوں پر ظاہر ہے،جنہوں نے اپنی پوری زندگی منافقت،مصنوعی پن، مذہبی ریاکاری اور تعصبات کے خلاف جہاد کرتے گزاری،جن پر بہت سی حقیقتیں کھل چکی تھیں، جو انسانی وحدت کا راز جان گئے تھے، جنہیں خالق اور مخلوق کے اٹوٹ بندھن کا علم ہوگیا تھا، جو انسانی روح میں روحِ مطلق کی موجودگی کا راز پا چکے تھے، جنہوں نے کائنات میں انسانی کردار کا سراغ لگا لیا تھا،جنہوں نے نگاہ، ذہن اور دل پر ڈالے گئے پردے چاک کرکے اصلیت تک رسائی حاصل کر لی تھی۔ جنہیں پوری دنیا ایک نقطے کی طرح یکجا دکھائی دیتی تھی، جن کی آنکھوں اور شعور کو ہر چہرے میں جلوہ گر ایک جھلک نظر آتی تھی،جن کیلئے ہر انسان معتبر تھا، جو نسلوں،عقیدوں،علاقوں اور ذات پات کے تعصب سے ماورا تھا۔ان کے کلام میں پوشیدہ رَمز تک جن کی رسائی ہو جاتی ہے، ان کے لئے دنیا واقعتاً ایک کنبہ بن جاتی ہے۔

بلھے شاہؒ کے فلسفے کی روشنی میں آج کی دنیا اور آج کے پاکستان کو دیکھتی ہوں تو دل خون کے آنسو روتا ہے۔ اسلئے کہ آج بلھے شاہؒ کی فکر کے متصادم رستے پر رواں ہو کر ہم سب تقسیم کے ایک لامتناہی سلسلے سے گزر رہے ہیںہمارا کوئی نظریہ نہیں رہا۔ہم نے مفادات اور ضروریات کے پیروکار ہو کر حق و باطل کے معنی و مفہوم کا نقشہ ہی بگاڑ کر رکھ دیا ہے۔اقوامِ عالم کا بھی یہی حال ہے۔ زیادہ ڈِگریوں اور سائنسی ترقی کے بعد انسان کو زیادہ وسیع النظری کا حامل ہونا چاہئے تھا لیکن وہ دائرے میں سکڑتا جا رہا ہے، وہ اپنی پسند ناپسند تک محدودہو چکاہے۔اس کی سوچ کا قفس ایک ایسی تنگ کوٹھری ہے جس میں تازہ ہوا اور روشنی کے لئے کوئی روشن دان موجود نہیں،عجیب طرح کی ہوس نے پورے ماحول کو گھیر رکھا ہے۔ طلب رہ گئی چاہت رُخصت ہوگئی۔پاکستان پر اس وقت قیامت کا سماں ہے۔دنیا میں قیامتیں برپا ہوتی رہتی ہیں۔قدرتی آفات قیامت کے ٹریلر ہیں۔ پلک جھپکتے جن کے گھر بار اجڑ گئے،خاندان دوست احباب ہمیشہ کے لئے بچھڑ گئے ان کے لئے یہی قیامت ہے۔لوگوں کو مرتے ہوئے دیکھنا گہرے کرب کا باعث ہے۔زندگی کو فنا کے سمندر میں غرق ہو کر بقا کی سمت بڑھنا ہے۔ہر فرد نے موت کو گلے لگانا ہے،مگر بے بسی اور لاچاری میں گھرے لوگوں کو خوف کے عالم میں گزرتے دیکھنا بہت بڑا المیہ ہے۔ہم لاکھ بے حِس ہو جائیں مگر ہماری روح ہمیں کچوکے دیتی رہتی ہے کیونکہ بلھے شاہؒ کی فکر کے مطابق ہماری روحوں کے دُکھ سکھ مشترک ہیں۔ہم اجتماعی مسرت اور اجتماعی رنج سے خود کو علیحدہ نہیں کر سکتے۔ہم تسلیم نہ بھی کریں مگر دوسروں کو دُکھ میں دیکھ کر ہمارے اندر غم کا دیپ جلنے لگتا ہےجو ہمارے وجود کو مضمحل کرتا رہتا ہے۔پاکستان نے کئی مشکل حالات جھیلے،ایک دنیا نے ڈبونے کی سعی کی مگر قدرت نے ہمت بندھائی۔لہروں سے ہاتھا پائی کرتے کنارے آ لگے۔حالیہ سیلاب شاید پوری75 سالہ قومی تاریخ کی کٹھن ترین گھڑی ہے کہ اس سے پہلے اتنی بڑی قیامت ہم پر نہیں گزری۔ اس میں ہماری کوتاہیاں بھی شامل ہیں کہ مستقبل کی منصوبہ بندی کبھی ہماری ترجیح نہیں رہی۔فطرت کے برعکس چلنے کی سزا کے بارے میں ہم نے سوچا ہی نہ تھا۔ توازن بگڑنے سے آنے والی قیامت کا ہمیں اندازہ ہی نہ تھا،ورنہ ہم موجود جنگلوں کو کاٹنے اور آگ لگانے کی بجائے مزید جنگل اُگاتے۔

آج کا سیلاب صرف اس سال کی تباہی ساتھ لے کر نہیں آیا بلکہ یہ ایک طویل سلسلہ ہے جس سے نمٹنے کی منصوبہ بندی کرنے کی اشد ضرورت ہے۔ موسمیاتی تبدیلیوں کے خطرناک نتائج کا ابھی آغاز ہواہے۔ کمزور معیشت والے ملک پر ناگہانی آفت بہت خطرناک ہو سکتی ہے۔فصلیں، درخت اور مویشی سیلاب کی نظر ہو جانے سے آئندہ دنوں میں شدید غذائی قلت کا سامنا ہو سکتا ہے،ہمیں اس وقت ان تمام عوامل پر بھی سوچنا ہے۔خدمتِ خلق سب سے بڑی عبادت ہے۔اس وقت ہر صاحبِ استطاعت کوسیلاب زدگان کے دکھ دور کرنے کی سعی کرنی چاہئے مگر سیاسی جماعتوں کا کردار زیادہ اہم ہے۔پانی کائنات کی سب سے بڑی حقیقت اور طاقت ہے۔اس کے آگے کسی کا بس نہیں چلتا۔لمحوں میں کئی منزلہ پختہ عمارات،پُلوں اور پلازوں کو نیست ونابود کر دیتا ہے۔سوچ بھی نہیں سکتے کہ کب زندگی کی ضمانت بننے والا موت کا روپ دھار لے۔ ہمیں اپنے ہم وطنوں کو دوبارہ قدموں پر کھڑا کرنے کے لئے دنیا کو آواز دینا ہو گی کہ شدید آفتوں سے نمٹنا کسی بھی صوبائی یا مرکزی حکومت کے بس کی بات نہیں۔ ابھی تو ہم حالتِ غم میں ہیں۔جانی و مالی نقصانات کا تخمینہ تو پانی اترنے کے بعد ہو گا۔اس معاملے پر سنجیدگی سے غوروفکر کرنے اور لائحہ عمل مرتب کرنے کی ضرورت ہے۔