فطرت کے نظم وضبط میں جکڑے موسم کب بدلتے ہیں۔ وہ تو چابی والی گھڑی کی طرح اپنے معمول کے مطابق چلتے رہتے ہیں۔ صرف ہمیں دکھائی دیتا ہے اور یہ فرق شاید اس لیے رکھا گیا ہے کہ مہم جو ُمزاج انسان کی طبیعت کا ذائقہ بدلتا رہے۔ سوچئے اگر دن اور رات کے مخصوص چکر کی طرح پوری دنیا کا موسم اور درجہ حرارت ایک جیسا ہوتا تو زندگی کتنی میکانکی اور پھیکی ہوتی۔ بہار رُت کی خوشگواریت دلوں میں وصل امنگوں کو جنم دیتی نہ خزاں کے مدہم رنگ روح کو ہجر کی دلگداز کیفیت سے ملول کرتے۔ نہ سردی گرمی کی صبحیں، دوپہریں اور شامیں منفرد ذائقوں سے بھری ہوتیں۔ یکسانیت سے اُکتاہٹ دلوں کو پتھر بنا دیتی۔ انسان مشین کی طرح اندھے قانون کے بہرے لمحوں میں جکڑا رہتا۔ صد شکر کہ ہمیں موسموں کی رنگا رنگی عطا ہوئی جن کے ساتھ زندگی کی بے پناہ خوبصورتیاں جڑی ہوتی ہیں۔ زمین کے کسی حصے پر جون کی گرمی اور کہیں جذبوں کو منجمد کرتی سردی رکھی گئی تا کہ منفرد، متضاد اور خوشنما منظر وجود میں آ سکیں۔ ہمارے خوبصورت وطن میں پت جھڑ کا موسم آتا ضرور ہے مگر خزاں ہمیں نڈھال نہیں کر سکتی اس لئے کہ ہم نے ہر بے رنگ موسم کے ساتھ جینے کے کچھ لوازمات باندھ رکھے ہیں۔ کبھی جب نومبر کی خنک شاموں کے ساتھ اُداسی کی بیل لپٹ کر اُن کی تازگی کے رنگوں کو ماند کرنے لگی تو اس دھرتی کے لوگ انہیں ست رنگی سرگرمیوں سے سجانے کی جستجو میں سر جوڑ کر بیٹھے۔ یوں پاکستان کے تمام بڑے شہروں خصوصاً کراچی اور لاہور میں اس موسم میں منفرد ادبی و ثقافتی میلے منعقد کرنے کا فیصلہ ہوا اور پھر یہ روایت بنتے گئے۔ لاہور میں کبھی فیض میلہ سجا کبھی ،لاہور لٹریچر فیسٹیول۔ اجوکا اور پیرو کے پلیٹ فارم سے تھیٹر کے عالمی سطح کے پروگرام جگمگائے۔ حکومتی ثقافتی اداروں اور ضلعی حکومتوں کے بہاریہ میلے، مشاعرے بھی عموماً اسی مہینے میں ہوتے تھے لیکن اس بار نومبر میلوں کی بجائے عجب طرح کے تنائو اور کشمکش کا مہینہ بنا رہا، سوائے عالمی اردو کانفرنس کراچی کے کہیں کوئی ہلچل نظر نہ آئی۔ سب تہوار فروری مارچ 2023ء تک ملتوی ہو گئے۔لیکن دھڑکتے لمحوں کاشہر لاہور بے حس اور خاموش نہیں رہ سکتا۔
اسی سوچ کو لے کر نیپا کا مشاعرہ منعقد ہوا جس نے بہت سے گم گشتہ رنگ یاد دِلا دیئے۔ مشاعرہ ہماری ثقافتی قدروں کا ترجمان ہے۔ اس سے جڑے تمام لوازمات نے ماحول کو خوبصورت بنا رکھا تھا۔ بہت عزیز سید بلال حیدر جو، شعر و ادب سے خصوصی لگائو رکھتے ہیں اور آج کل نیپا میں کورس پر ہیں ،نے اس پروقار محفل کا اہتمام کیا۔ سرکاری جاہ و جلال میں ڈوبی عمارت ادبی و ثقافتی سرمستی میں سرشار تھی۔ ادب کے تمام سلیقے طریقے دیواروں کے اندر باہر جلوہ گر تھے۔ مجھے امید ہے کہ کورس کے بعد جب یہ افسران مختلف محکموں کی کلیدی ذمہ داریاں سنبھالیں گے تو معاشرے میں ادب و ثقافت کے ذریعے خیر کی قدروں کو اجاگر کرنے میں بھرپور کردار ادا کریں گے۔
اس مشاعرے کی سب سے عمدہ بات یہ تھی کہ ہمیشہ ہاں کر کے دامن بچا جانے والے شاعر شعیب بن عزیز نے اس مشاعرے کی صدارت کی اور ان سے جی بھر کے کلام سنا گیا۔ راقم کو بلال حیدر سے محبت کے عوض کمپیئرنگ کرنا پڑی کہ میرے خیر خواہ مجھے تقریبات میں دھکیل کر میرے وجود پر طاری بیماری کی اُداس یادیں ختم کرنا چاہتے ہیں۔ شعیب بن عزیز کی جس خوبصورت دعائیہ اور التجائیہ غزل پر مشاعرہ اختتام پذیر ہوا اس کے کچھ شعر سنئے:
کہاں لے جاؤں یہ فریاد مولا
مِرا بصرہ ، مِرا بغداد مولا
بہت دکھ سہہ لیا اہلِ حرم نے
بہت دن رہ لیا ناشاد مولا
ہمارے حال کی بھی کچھ خبر لے
ہمارے دل بھی ہوں آباد مولا
ہمارے دُکھ جبینوں پر لکھے ہیں
بیاں ہم کیا کریں روداد مولا
بہت سے شاد و فرحاں پھر رہے ہیں
ہمارے ساتھ کے برباد مولا
تو کیا ہم اپنی باری لے چُکے بس
تو کیا اب ہم ہیں رزقِ یاد مولا
تو کیا یہ سب بساطِ رنگ و مستی
بچھے گی اب ہمارے بعد مولا
تو کیا یہ ہمدمی دائم رہے گی؟
یہ غم ہے کیا مِرا ہمزاد مولا
ہمارے چاہنے والے ہمیں اب
نہیں دیکھیں گے کیا دلشاد مولا
یہ جان و مال میرے تجھ پہ صدقے
تِرے محبوب پر اولاد مولا
مِرے لاہور پر بھی اِک نظر کر
تِرا مکہ رہے آباد مولا