cat > /home/apnaorg/public/wp/wp-content/mu-plugins/apna-columnists-hub.php <<'PHP' Sughra Sadaf – Academy of the Punjab in North America https://apnaorg.com/wp Sun, 24 May 2026 12:58:37 +0000 en-US hourly 1 https://wordpress.org/?v=6.9.4 اقلیتوں کے حقوق اور صوفیاء کرام https://apnaorg.com/wp/columns/sughra-sadaf/%d8%a7%d9%82%d9%84%db%8c%d8%aa%d9%88%da%ba-%da%a9%db%92-%d8%ad%d9%82%d9%88%d9%82-%d8%a7%d9%88%d8%b1-%d8%b5%d9%88%d9%81%db%8c%d8%a7%d8%a1-%da%a9%d8%b1%d8%a7%d9%85/ Sun, 24 May 2026 12:58:37 +0000 https://apnaorg.com/wp/columns/general/%d8%a7%d9%82%d9%84%db%8c%d8%aa%d9%88%da%ba-%da%a9%db%92-%d8%ad%d9%82%d9%88%d9%82-%d8%a7%d9%88%d8%b1-%d8%b5%d9%88%d9%81%db%8c%d8%a7%d8%a1-%da%a9%d8%b1%d8%a7%d9%85/ اقلیتوں کے حقوق اور صوفیاء کرام

ایک زمانہ تھا جب پاکستان میں مذاہب کے حوالے سے تقسیم نہ ہونے کے برابر تھی۔ الگ الگ مذاہب موجود تھے مگر انسانی رویے آفاقی اخلاقی اصولوں کے عکاس تھے اس لئے ایک عجیب طرح کی ہم آہنگی، خلوص اور رواداری نے انھیں اس طرح آپس میں باندھ رکھا تھا کہ وہ دُکھ سُکھ کے مواقعوں پر بھی اکٹھے ہوتے تھے اور ایک دوسرے کے مذہبی تہواروں کا نہ صرف احترام کرتے تھے بلکہ اُن میں شرکت کر کے بھائی چارے کی فضا کو فروغ دیتے تھے۔ زیادہ دور مت جائیے اٹھارہویں صدی کا پنجاب دیکھ لیں۔ ہیر وارث شاہ پڑھ لیں آپ کو یہ فضا لفظوں میں جلوہ گر نظر آئے گی۔

وارث شاہ کی داستان میں جس سماج کی جھلک دکھائی دیتی ہے اس میں بسنے والے مسلمان تمام مذاہب کے نیک، صالح اور دانشور انسانوں کی عزت کرتے اور احترامِ آدمیت اخلاقیات کا مرکزی نقطہ تھا۔ وارث شاہ نے اپنی شاعری کے ذریعے اپنے عہد کا جو خاکہ پیش کیا ہے اور چلتے پھرتے انسانوں کے ساتھ ساتھ اشیاء کی جو منظر کشی کی ہے وہ لاجواب ہے لیکن وارث شاہ کا کمال یہ ہے کہ اُس نے لوگوں کے رویوں کو بھی ایک ماہر نفسیات کی طرح جانچا اور تاریخ کا حصہ بنا دیا۔ اٹھارہویں صدی کا پنجاب اپنی وسعت قلبی اور روشن خیالی میں کتنا مضبوط تھا۔ لوگ کھلے دل کے مالک تھے۔ غور کیجئے قصے کا ہیرو رانجھا ایک ہندو جوگی سے دعا کی درخواست کرتا ہے کیونکہ اُسے یقین ہے کہ ہر انسان اُس کے خدا کی مخلوق ہے اور نیک لوگوں کی دُعا سُنی جاتی ہے۔ انیسویں صدی آگئی، پاکستان بننے کے بعد بھی رواداری کا ماحول پرورش پاتا رہا۔ ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ تعلیم اور تہذیب کے ساتھ ماحول زیادہ خوشگوار ہوتا مگر حالات نے پلٹا کھایا اور صدیوں کی ہم آہنگی اور مذہبی رواداری کو تہس نہس کر کے رکھ دیا۔ روشن دن کے چہرے پر سیاہ رات ایسے قابض ہوئی کہ صبح کے ستارے کا دیدار مشکل ہوگیا۔ جب ایک مذہب کے ماننے والے مختلف فرقوں میں تقسیم ہو کر ایک دوسرے کے دشمن بن جائیں اور خون بہانے لگیں تو وہاں دوسرے مذاہب کے لئے نرمی کی کہاں گنجائش باقی رہتی ہے۔ ایسی ہی صورتحال کا پاکستان کو سامنا کرنا پڑا ۔ ہم اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات کا مطالعہ کریں تو انہوں نے مسجد جو کہ مسلمانوں کی مقدس عبادت گاہ ہے میں بھی دیگر مذاہب کو داخلے اور عبادت کرنے کی اجازت دے کر اسلام کی وسعت کا عملی مظاہرہ کیا۔ اُن کی ذات مبارکہ بھی تمام لوگوں کے لئے رحمت کا باعث ہے اور اُن کا رویہ بھی سب سے شفقت اور مہربانی کی عمدہ مثال ہے۔

پاکستان کی ساٹھ سالہ تاریخ میں دنیا نے وسیع المشربی کو تنگ نظری میں ڈھلتے ہوئے دیکھا اور ایک سیاہ باب رقم ہوگیا۔ آج وہ دور نہیں مگر ابھی تک دلوں کے اندر اُس سیاہی کا کچھ حصہ باقی ہے۔ جس کے سائے کی وجہ سے نگاہوں کو واضح تصویر نظر نہیں آتی۔ شدت پسندی ایک دم ختم نہیں ہو سکتی۔ چیزیں تعمیر ہونے میں وقت لیتی ہیں۔ اِسی طرح ٹوٹی ہوئی قدریں جڑنے میں کہیں زیادہ وقت لگتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آج لوگ بظاہر بہت تعلیم یافتہ اور روشن خیال نظر آتے ہیں مگر اُن کے نظریات میں تنگی براجمان ہے۔ اب یہ انفرادی مسئلہ نہیں رہا بلکہ مجموعی معاشرے کا معاملہ بن چکا ہے۔ بری بات زیادہ جلدی پھیلتی ہے اور اچھی بات کو لوگوں تک پہنچنے میں کچھ وقت لگتا ہے۔ تاہم خوشی کی بات یہ ہے کہ پنجاب گورنمنٹ کی طرف سے اقلیتوں کے حوالے سے کچھ بہت اہم اعلان کئے گئے ہیں۔ تقریباً چھ ہزار خاندانوں کے لئے کرسمس گرانٹ کا اعلان کیا گیا ہے، اقلیتی آبادی والے علاقوں میں نکاسی آب، سڑکوں، گیس، بجلی اور دیگر سہولیات کی فراہمی یقینی اور بہتر بنائے جانے کی شنید ہے۔ اقلیتوں کے مذہبی مقامات کی دیکھ بھال، مرمت اور تزئین و آرائش کے لئے منصوبہ بندی عظیم آغاز ہے۔ صدیوں پرانے یہ مقامات پاکستان کا تاریخی ورثہ ہیں۔ اِن کی حفاظت اور دیکھ بھال فرد واحد کے بس میں نہیں یہ سرکار کا کام ہوتا ہے۔ شکر ہے کہ سرکار نے دیر سے سہی اِس طرف توجہ مبذول کی اور اسے اپنی ترجیح اور اہم ذمہ داری قرار دیا۔ مذہبی مقامات کے ذریعے دنیا بھر کے سیاحوں کی توجہ حاصل کی جا سکتی ہے اور زرمبادلہ بھی کمایا جاسکتا ہے۔ اسی طرح اقلیتوں کو خصوصاً مسیحی برادری کو ترقی کے دھارے میں شامل کرنے کے لئے کئی اقدامات کیے جا رہے ہیں جن سے اُن کی سماجی بہتری ہو اور معاشرے میں برابری کی فضا بنے۔ تعلیم انسان کوسنوارتی ہے اِس لئے پانچ ہزار نوجوانوں کو پی، ایس، ڈی، ایف کے تحت فنی تربیت دینے کے ساتھ ساتھ نوجوانوں کے لئے تعلیمی وظائف بھی رکھے گئے ہیں اور ملازمت میں بھی ان کا پانچ فیصد کوٹا رکھا گیا ہے۔ جس سے وہ صرف مخصوص نوکریاں ہی نہیں کریں گے بلکہ ہر قسم کی یعنی اعلیٰ ملازمتوں میں بھی حصہ لے کر ملک کی ترقی میں اپنا کردار ادا کریں گے اور بطور پاکستانی فخر محسوس کریں گے۔ مجھے امید ہے کہ موجودہ اقدامات کے بعد اقلیتیں زیادہ تحفظ محسوس کریں گی۔ آئیے اپنے اردگرد دیکھیں اور جہاں تک ممکن ہو سکے انفرادی سطح پر بھی دیگر مذاہب سے تعلق رکھنے والے لوگوں کے دُکھ درد دور کرنے کی کوشش کر کے اُن کا اعتماد بحال کریں۔ اِسی کا نام انسانیت ہے۔ صوفیاء نے ہمیشہ وسیع تر معاشرے کی بات کی ہے۔ وہ تمام انسانوں کو خدا کا کنبہ تصور کرتے ہیں اور سب کے مساوی حقوق کا پرچار کرتے ہیں۔ پاکستان کو امن کی ڈگر پر رواں کرنے کے لئے صوفیاء کی تعلیمات کو نصاب کا حصہ بنایا جانا بے حد ضروری ہے۔

]]>
دربار کی دیواروں کے گلے لگ کر https://apnaorg.com/wp/columns/sughra-sadaf/%d8%af%d8%b1%d8%a8%d8%a7%d8%b1-%da%a9%db%8c-%d8%af%db%8c%d9%88%d8%a7%d8%b1%d9%88%da%ba-%da%a9%db%92-%da%af%d9%84%db%92-%d9%84%da%af-%da%a9%d8%b1/ Sun, 24 May 2026 12:58:36 +0000 https://apnaorg.com/wp/columns/general/%d8%af%d8%b1%d8%a8%d8%a7%d8%b1-%da%a9%db%8c-%d8%af%db%8c%d9%88%d8%a7%d8%b1%d9%88%da%ba-%da%a9%db%92-%da%af%d9%84%db%92-%d9%84%da%af-%da%a9%d8%b1/ دربار کی دیواروں کے گلے لگ کر

جب کبھی اندھا دھند بھاگتی جیون کی گاڑی کے شیشے بے یقینی کی دھند سے مَیلے ہونے لگیں، تکبر اور اَنا کا شر وجود کے شجر کو آکاس بیل کی نگاہ سے دیکھنے لگے، اپنے ہونے کا احساس اس کے ہونے کے احساس سے جُدا رستے پر نکل پڑے، زمانے اور ذات کے درمیان چپقلش کے باعث ہونے والی پسپائی اور رسوائی روگ بن جائے، دل کے تہہ خانے میں رکھی خواہشات کے جواہر کوڑا کرکٹ میں ڈھلنے لگیں، فکر کی ہر منزل پر شکوک بسیرا کر لیں اور اعمال کی جیب میں بھرے دینار دیمک کے بُورے میں بدل جائیں تو ڈانواں ڈول جیون کو خطِ مستقیم پر رواں کرنے کے لئے کسی صوفی یا ولی کے دربار پر رات گئے آلتی پالتی مار کر بیٹھ رہنا ضروری ہو جاتا ہے۔

کئی دن سے احساس ہو رہا تھا کہ ظاہر میں ہونے والی غلطیوں اور کوتاہیوں کا تعلق باطن سے برتی جانے والی بے توجہی ہے۔ نتیجتاً دونوں کی سمت الگ ہوئی جا رہی ہے اسی لئے تو دھیان کہیں اور قدم کہیں ہیں اور یہ بے سمتی وجود کو مسلسل مضمحل کئے جا رہی ہے۔ اندر بیٹھے رہبر نے کئی بار خواب خیال کے ذریعے سوتے جاگتے خبردار کیا، دل نے سائرن بجا کر متحرک کرنے کی کوشش کی، روح نے جگانے کی سعی کی مگر شب و روز کے درمیان جاری دوڑ میں ایک نیم غنودگی جسم و جان پر طاری رہی۔ نتیجہ یہ ہوا کہ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ کثافت بڑھتی گئی۔ سامنے پڑی شے نظر آنا بند ہوئی، چلتے چلتے ٹھوکر کھا کر گرنے ہی والی تھی کہ کسی الوہی جذبے نے ہاتھ پکڑ لیا۔ میں اُس کی انگلی تھامے چل پڑی۔ حضرت علی ہجویریؒ کے دربار کے باہر جوتے اُتار کر پاؤں نے اس زمین کو چھوا ہی تھا کہ محسوس ہوا کسی نے مضمحل اعصاب میں روحانیت کا انجکشن لگا کر چاق و چوبند کر دیا، نوازشات کی بارش ہونے لگی، ہر شہر پر کرامات کا سایہ ہوتا ہے۔ اسی طرح وجود بھی رحمتوں، برکتوں اور کرامات تلے اپنی سمت درست رکھتا ہے، لاہور کرم کی نوازشات میں بھیگا ہوا شہر ہے۔

اس کی روحانیت میں رچی بسی فضاؤں نے کتنے اولیاء اور صوفیاء کو بلایا جو اس کی محبت میں یہیں کے ہو رہے اور اس کے نام کو اپنی روشنی سے چمکا کر مزید اُجاگر کیا۔ حضرت علی ہجویریؒ المعروف داتا گنج بخش کا مزار اس شہر کا مرکزی مقام ہے جو مجھ جیسے عقیدت مندوں کو اپنی جانب کھینچتا رہتا ہے۔ ہر وقت ایک ریل پیل لگی رہتی ہے۔ میں نے دیکھا میں دَرگاہ کی اُس کھڑکی کے سامنے کھڑی ہوں جس کے اندر علم و عرفان کے پیامبر کی آخری آرام گاہ تھی۔ چھوٹی سی کھڑکی سے صرف چند لمحے نظارے کی اجازت تھی کہ عقیدت مندوں کا ایک ہجوم پیچھے سے اُمنڈا آرہا تھا، اُن کو بھی اپنے دُکھ بیان کرنے تھے، اپنی خواہشات کو تشفی دینا تھی، اپنے دل میں حوصلہ بھرنا تھا، خود کو دِلاسا دینا تھا اور اپنے جیون کو توازن کی سوئی پر لا کر ٹکانا تھا اِس لئے میں تھوڑا پیچھے ہٹ کر نگاہ اس مقام پر مرکوز کرکے بیٹھ گئی۔

جس جذبے نے میرا ہاتھ پکڑ کر اس مقام تک میری رسائی کو ممکن بنایا تھا، اُس کے لئے تشکر کے آنسو بہانا لازم تھا۔ پھر تشکر کے یہ آنسو بارش کا روپ دھار گئے۔ میرے احساسات کی، میرے دکھوں کی، میری تشنہ کامیوں اور کوتاہیوں کی دُھلائی ہونے لگی کیونکہ مجھے میرا رُوپ لوٹایا جانا تھا، وہ رُوپ جس پر وقت کی گرد نے کئی تہیں جما رکھی تھیں۔ میں اُس دِیے کو دیکھ رہی تھی جس کی لَو نے میرے وجود سے رابطہ قائم کر لیا تھا کہ روشنی کا کنکشن جُڑتے ہی منظر واضح ہونے لگا۔ دِیے کی آگ میرے دل کے اندر سرایت کر گئی اور اُن سب کو جلا کر راکھ کرنے لگی جو میرے لئے نقصان دہ تھے۔ میں نے کئی آوازیں سنیں، رات کے آخری پہر تک وہاں ہزاروں دعاؤں، خواہشوں اور سسکیوں کی قطار لگی ہوئی تھی۔ بے آسرا لوگوں کے علاوہ وہ بھی شامل تھے جن کو معاشی حوالے سے تو شاید کوئی مسئلہ نہ تھا مگر انہیں کوئی ایسا دُکھ لاحق تھا کہ جس کی داد رسی کے لئے کسی ولی اور صوفی کا سہارا درکار تھا۔ یوں سب عرصے سے باندھ کر رکھی آنسوؤں کی پوٹلی اُٹھائے وہاں آ رہے تھے۔ وہ کچھ دیر روتے، گِڑگڑاتے، نفل پڑھتے، وِرد کرتے اور چلے جاتے۔ یوں تو نیاز کا ایک خاص سلسلہ ہے مگر میرے وہاں بیٹھے میری جھولی میں کبھی کوئی پھل گرتا کبھی ٹافیاں، کبھی مٹھائی اور کبھی کسی آواز پر مجھے ہاتھ پھیلا کر نیاز حاصل کرنا پڑتی۔ واپسی پر چادریں اوڑھے بے سُدھ سوئے لوگوں کو دیکھ کر دل سے دُعا نکلی کہ خُدا اِس سائبان کو آباد رکھے جہاں دیہاڑی دار مزدوروں، بھکاریوں اور بے سہاروں کو دو وقت کی روٹی بھی مُیسر ہے اور بغیر کرائے کے رہنے کا مقام بھی۔

کئی صاحبِ ثروت لوگوں نے لنگر شروع کر رکھے ہیں مگر وہاں ایک مخصوص تعداد ہی رسائی حاصل کر سکتی ہے۔ یہ صرف اولیاء کا امتیاز ہے کہ اُن کے دروازے 24گھنٹے خلق خدا کے لئےکھلے رہتے ہیں۔ یہاں لنگر بھی ہے اور رہنے کا آسرا بھی۔ سوچئے یہ دربار نہ ہو تو دُکھیارے کس کے گلے لگ کر پھوٹ پھوٹ کر روئیں، اپنا کتھارسس اور اپنے دُکھوں کا اظہار کریں۔ یہ دیواریں بڑی رازدار ہیں، کسی کو کسی اور کی بات نہیں بتاتیں، تسلی ضرور دیتی ہیں، درد کھینچ لیتی ہیں، آنسو جذب کرلیتی ہیں اور انسان کو شفاف بنا کر دوبارہ زندگی کی سڑک پر دھکیل دیتی ہیں۔

]]>
رب بے وارث کر ماردا ای https://apnaorg.com/wp/columns/sughra-sadaf/%d8%b1%d8%a8-%d8%a8%db%92-%d9%88%d8%a7%d8%b1%d8%ab-%da%a9%d8%b1-%d9%85%d8%a7%d8%b1%d8%af%d8%a7-%d8%a7%db%8c/ Sun, 24 May 2026 12:58:36 +0000 https://apnaorg.com/wp/columns/general/%d8%b1%d8%a8-%d8%a8%db%92-%d9%88%d8%a7%d8%b1%d8%ab-%da%a9%d8%b1-%d9%85%d8%a7%d8%b1%d8%af%d8%a7-%d8%a7%db%8c/ رب بے وارث کر ماردا ای

انسان کب باز آتا ہے۔ تاریخ کے فرعونی کرداروں کا منطقی انجام اور بھیانک خاتمہ دیکھ اور جان کر بھی اپنے آپ کو تبدیل نہیں کرتا۔ دل میں حلیمی پیدا کرتا ہے نہ نرمی۔ اپنے عہدے اور مرتبے کے ذریعے انسانیت کے لیے خیر کی علامت بننے اور معاشرے میں مثبت سوچ پروان چڑھانے کے بجائے طاقت کے نشے میں سرشار غلطیوں پر غلطیاں دہرائے جاتا ہے۔ اخلاقی قدروں کو پیروں تلے کچلتا ہوا بھول جاتا ہے کہ کسی وقت یہ سب مل کر طوفان کا روپ دھار سکتی ہیں۔ وقت گزرنے کا احساس بھی اُس کی آنکھوں سے اوجھل رہتا ہے۔ ہم دیکھتے ہیں صوفیا، اولیا اور خوفِ خدا رکھنے والوں کے علاوہ ہر انسان میں ایک چھوٹا سا فرعونی پیکر ضرور سمایا ہوتا ہے جو وقت پڑنے پر اپنا اظہار کرتا اور وحشت پھیلاتا ہے۔ سارا فساد، ساری لڑائی اور رسہ کشی اسی فرعونی فکر کے باعث ہے۔ ہمارے صوفیا نے نفی ذات کو تصوف کا آغاز کہا کیونکہ جب تک انسان اپنے اوپر اختیار حاصل نہیں کر لیتا، اپنے غم و غصے، تکبر، حسد اور دیگر نفسانی برائیوں کو پسپا نہیں کرتا اور اپنے عمل کو سوچ کے تابع نہیں کرتا وہ کسی اور کے لیے مفید نہیں ہو سکتا، نہ ہی بلندیوں کی طرف سفر جاری رکھ سکتا ہے۔ پاکستان میں اِس وقت سب سے زیادہ ضرورت صوبائی اکائیوں کے درمیان ہم آہنگی اور جُڑت کی ہے۔ سوشل میڈیا پر ہر وقت ایک نفرت انگیز ماحول پروان چڑھتا دکھائی دیتا ہے۔

جس میں ایک صوبے کا فرد دوسرے سے شکوہ کناں ہے۔ وہ لوگ جو بالکل کوئی کام نہیں کرتے وہ صرف تنقید کرتے ہیں اور معاشرے کی اصلاح کا خود کو ٹھیکیدار سمجھتے ہیں۔ اُن کے نزدیک نیکی کرنے سے زیادہ برائی کی تشہیر کرنا اہم ہے۔ ایسی صورت میں کسی بھی قابل انسان کا وجود ناممکن ہو گیا ہے کیونکہ ہر طبقہ فکر کے ماننے والوں نے سرکاری ملازموں، سیاستدانوں اور دیگر محکموں کے حوالے سے منفی پروپیگنڈا اپنا وتیرہ بنا لیا ہے جس سے مایوسی کی فضا پروان چڑھتی ہے۔ جس سے بات کریں وہ گلہ کرتا دکھائی دیتا ہے۔ حالانکہ اُس کی زندگی اُس کے آباؤ اجداد سے کہیں زیادہ بہتر اور آرام دہ ہوتی ہے۔ پھر مسئلہ یہ ہے کہ وہ لوگ جو ہر وقت گلہ کرتے ہیں وہ کسی وقت یہ سوچنے کی زحمت گوارا نہیں کرتے کہ عمل کے ذریعے اپنا حصہ ڈال کر معاشرتی اصلاح کریں۔

ظاہر ہے ہر فرد دیانتداری سے کام کرے اور ہر فرد کو وہ کام دیا جائے جس کا وہ اہل ہے تو یقیناً معاشرے میں خاطر خواہ بہتری آ سکتی ہے۔ قبل مسیح یونانی فلسفیوں نے یہ حقیقت بتا دی تھی کہ ہر انسان برابر نہیں ہوتا، خدا کی طرف سے کچھ لوگوں کو مخصوص صلاحیتیں ودیعت کی جاتی ہیں۔ ہر فرد فیصلہ سازی اور چیلنج قبول کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتا۔ اِسی طرح فنون، ادب اور دیگر شعبوں کا تعلق ہے۔ ہر فرد کا جسم ویسا ہی عمل کرتا ہے جس کی کمانڈ اُس کا ذہن اُسے دیتا ہے۔ اِس لیے بہت طاقتور جسم والے لوگ بھی بزدل اور کم حوصلہ ہو سکتے ہیں جبکہ بظاہر کمزور نظر آنے والے لوگوں کا حوصلہ بہت پختہ ہوتا ہے اور وہ بڑے بڑے فیصلے لینے کے ساتھ ساتھ بڑے بڑے منصوبوں کو پایہ تکمیل تک پہنچانے کی صلاحیت بھی رکھتے ہیں۔ ہمارے معاشرے کا سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ ہمارے عملی کردار کا فیصلہ والدین نے اپنے سپرد لیے رکھا۔ وہ بچہ جسے طب سے کوئی دلچسپی نہیں ہم اُسے ہر حال میں ڈاکٹر بنانا چاہتے ہیں اور وہ بچہ جو ریت کا گھروندا بنانے سے ہچکچاتا ہے اُسے انجینئر بناکر عمارتوں کی تعمیر پر لگا دیتے ہیں۔ جب آپ کسی فرد کو ایسے فرائض تقویض کریں جو اُس کی دلچسپی اور رجحان کے مطابق ہوں تو نتیجہ سو فیصد مثبت آتا ہے کیونکہ وہ فرد اپنے کام کو بوجھ نہیں سمجھتا بلکہ ایک خوشگوار عمل سمجھ کر سرانجام دیتا ہے۔ یہاں وہ مقررہ وقت کی پروا بھی نہیں کرتا کیونکہ اُس کے لیے کام کی انجام دہی اطمینانِ قلب کی مانند ہوتی ہے۔ ادب اور کلچر وہ پلیٹ فارم ہیں جس کے ذریعے معاشرے میں مثبت تبدیلی لائی جاسکتی ہے۔

ہمارے ہاں 72سالوں سے صوبوں کے درمیان ہم آہنگی کا کوئی عمل شروع نہیں کیا گیا۔ لوگ ایک دوسرے صوبے میں ملازمت کے لیے جاتے ہیں لیکن آپس میں یگانگت کا ماحول پیدا نہیں ہوتا کیونکہ لوگوں کا لوگوں سے رابطہ ہی نہیں ہوتا جس کی وجہ سے خلیج روز بروز بڑھتی جا رہی ہے۔ اگر ہمیں پاکستان کو ایک مضبوط ریاست بنانا ہے تو صوبائی چپقلشوں کو کم کرکے ہم آہنگی کی فضا کو ترویج دینا ہوگا۔ لوگ دوسرے ملکوں میں جاتے ہیں مگر دیگر صوبوں میں ہونے والے میلے ٹھیلوں میں شرکت نہیں کرتے۔ ضروری ہے کہ قومی سطح کے ثقافتی اور ادبی ادارے وفود کے تبادلوں کے ساتھ ساتھ کسی بھی جگہ ہونے والے علاقائی میلوں میں لوگوں کی زیادہ سے زیادہ تعداد کی شرکت کو یقینی بنائیں۔ شندور پولو فیسٹیول کی طرز کے جتنے بھی میلے ہیں اُن میں یہ ادارے لوگوں کو لے کر جائیں تاکہ دیگر صوبوں کے لوگ وہاں کے لوگوں سے بات چیت کریں اور اپنائیت کی طرف سفر شروع ہو۔ بہرحال ابھی تک سائنس اِس بات کا کھوج نہیں لگا سکی کہ وقت سے پہلے واقعات کے بارے میں انسانی ذہن کو کس طرح علم ہو جاتا ہے اور وہ معلومات خواب کی صورت ہم تک کسی طرح پہنچتی ہیں۔ جن کو وقوع پذیر ہونے میں ابھی کچھ وقت باقی ہوتا ہے۔

یقیناً تقدیر اسی کا نام ہے کچھ چیزیں لکھی ہوئی ہیں اور وہ ہمارے وجود کے عناصر سے تال میل رکھتی ہیں اِس لیے دوسروں کے رستے میں کانٹے بچھانے کی بجائے اپنے لیے کوشش کرنا چاہئے اور صالح عمل کی توفیق طلب کرنا چاہئے۔ یقیناً یہ بھی ایک نعمت ہے اگر حاصل ہو جائے تو۔ ورنہ احساسِ جرم تو کسی نہ کسی وقت انسان پر حملہ آور ہوکر رہتا ہے۔ وارث شاہ جنہیں دنیا سخن کا وارث کہتی ہے، نے ہیر کے رومانوی قصے میں آفاقی حقیقتیں اور اخلاقی قدریں بیان کرکے افراد کو انسان بننے کا گر سِکھایا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ دنیا میں اَکڑ کر چلنے والا آخر بے توقیر ہو کر رخصت ہوتا ہے۔ عزت صرف اُسی کی ہوتی ہے جو دلوں کو جیتنے کا جتن کرتا ہے۔ زمین، مال اور وارثوں پر مان کرنے والے بے وارث کر دئیے جاتے ہیں اسلئے اُس حاکم سے ڈرنا چاہئے جو قہار بھی ہے اور جبار بھی۔ محبت کرنے والوں کیلئے وہ ستر ماؤں سے زیادہ مہربان ہے اور اِس کے برعکس چلنے والوں کو عبرت کی علامت بنا دیتا ہے۔

وارثؔ مان نہ کر وارثاں دا

رب بے وارث کر ماردا ای

]]>
اک نقطہ یار پڑھایا اے https://apnaorg.com/wp/columns/sughra-sadaf/%d8%a7%da%a9-%d9%86%d9%82%d8%b7%db%81-%db%8c%d8%a7%d8%b1-%d9%be%da%91%da%be%d8%a7%db%8c%d8%a7-%d8%a7%db%92/ Sun, 24 May 2026 12:58:36 +0000 https://apnaorg.com/wp/columns/general/%d8%a7%da%a9-%d9%86%d9%82%d8%b7%db%81-%db%8c%d8%a7%d8%b1-%d9%be%da%91%da%be%d8%a7%db%8c%d8%a7-%d8%a7%db%92/ اک نقطہ یار پڑھایا اے

بُلھے شاہ کی لفظالی میں نقطہ وہی اہمیت رکھتا ہے جو جسم میں روح کی ہے۔ گویا بات معنی سے بھی آگے کی ہے۔ نقطے کی بات کر کے وہ سفر کو مختصر اور آسان کر دیتا ہے۔ بُلھے شاہ کی تمام شاعری کا مرکزی خیال نقطے کے گرد رقص کرتا ہے۔ کبھی نقطہ آغاز ہے اور کبھی انجام اور کبھی وہ پوری کائنات پر محیط ہو جاتا ہے کہ جس میں کئی جہان آباد ہیں۔ جس طرح دور سے دیکھنے پر زمین اور دیگر سیارے چھوٹے چھوٹے ٹکڑے نظر آتے ہیں مگر وہاں جائیں تو اندر کئی جزیرے، دریا، سمندر، پہاڑ اور طرح طرح کی مخلوق دکھائی دیتی ہے۔ بُلھے شاہ کا نقطہ بھی زمین کی مانند ہے۔ وہ تنوع کو تسلیم کرتا ہے مگر انسانوں میں فرق اور استحصال قبول نہیں۔ جب خالق ایک ہے تو تخلیق میں اعلیٰ ادنی، اُونچ نیچ، ذات پات کا کیا تذکرہ۔ نقطہ وحدت کا استعارہ ہے۔ اگرچہ یہ ایک ایسی اکائی ہے جسے مزید تقسیم نہیں کیا جا سکتا مگر کائنات کے نقطے کے اندر مختلف رنگوں، عقیدوں، نسلوں اور قوموں کے انسان بستے ہیں۔ ان میں کچھ افتخار، کچھ غرور اور کچھ اپنی ذات کے سحر میں کھوئے دنیا کو ہاتھ کی انگلی پر نچانے کے دعویٰ دار بھی ہیں اور کبھی ہر شے اور معاملے سے بے خبر سانس لے رہے ہیں۔ جس طرح خود بخود درخت اُگتے ہیں اور کسی دن آندھی یا آگ کا رزق بن جاتے ہیں۔ یہ بھی جنم سے قبر تک کا سفر طے کرتے ہیں۔ بُلھا انسان کی اِس بے خبری سے نالاں ہے۔ اِس لئے وہ اُس کے شعور کے دروازے پر دستک دے کر اُسے جنجھوڑتا ہے تاکہ وہ اپنے فرائض سرانجام دے اور تنوع میں مشترک کو تلاش کرے۔ استحصال کرنے والے اور استعمال ہونے والے بھی کائنات کے اسی نقطے میں متحرک ہیں۔ نقطہ ٹھہرا ہوا ہے جامد ہے مگر اس کے اندر آباد دنیا میں ہل چل ہے۔ کم از کم جسمانی حرکت تو ہر جگہ لازم ہے مگر سوال یہ ہے کہ اس عظیم کائنات میں کتنے فیصد لوگ ہیں جو یار سے جڑے ہوتے ہیں۔ بُلھے شاہ نے جس ”یار“ کا ذکر کیا ہے وہ وسیع تر معنوں میں مُرشد سے لیکر حقیقت مطلق تک پھیلا ہوا ہے۔ یار کے سامنے سرنڈر کرنے سے سفر آغاز ہوتا ہے۔ محبت کا پہلا سبق نقطے سے شروع ہوتا ہے اور نفی کے مراحل سے گزرتے ہوئے نقطے پر ہی ختم ہوتا ہے۔ نقطہ توجہ کا ارتکاز بھی ہے، وحدت کی علامت بھی اور اک مِک ہو جانے والی ایسی کیفیت بھی جس میں دوئی کی گنجائش نہیں۔ بُلھے شاہ کا یار جس نکتے پر سوچ کو اُستوار کرتا ہے وہ وصل کا مقام ہے۔ جہاں ہر قسم کے اختلافات اور تعصبات مٹ جاتے ہیں۔ دل کا شیشہ اور سوچ کی حد اِس قدر شفاف ہو جاتی ہے کہ آلودگی لطافت میں ڈھل جاتی ہے۔

نقطے پر توجہ مرکوز کرنا اور اس کی حدود کو سمجھنا اشد ضروری ہے۔ اس کی موجودگی اور عدم موجودگی کیا معنی رکھتی ہے بلکہ معنی پر کس درجہ اثر انداز ہوتی ہے یہ جاننا بھی اہم ہے۔ بُلھے شاہ کے مطابق ع اور غ کی طرح انسانی صورتیں بھی ایک سی ہیں۔ نقطے کا فرق انھیں ممتاز کرتا ہے۔ جس کی فکر نقطے کا احاطہ کرے گی، اُس کے اندر شور برپا ہوگا۔ جس طرح دریا میں لہروں کا شور ہوتا ہے اور جس میں یہ نہیں ہوگا اس کی حیثیت مُردے کی سی ہوتی ہے۔ کائنات میں ایک کا حسن جلوہ گر ہے جس کے لشکارے مختلف صورتوں اور رنگوں میں جھلک رہے ہیں۔ جو اشیاء اور صورتوں میں اس کو ڈھونڈھ لے وہ وحدت میں ڈھل جاتا ہے۔ یہ جھلک دیکھنے والوں کو آپس میں جوڑتی جاتی ہے۔ جس آنکھ کو اُس کا جلوہ دکھائی دے جائے اُس کے لئے، ذات پات، طبقات اور تقسیم معدوم ہو جاتے ہیں۔ہمارا آج کا مسئلہ یہ ہے کہ آج کا اِنسان بہت تنہا ہے۔ باہر سے بھلے ایک ہجوم اس کے ارد گرد ہو مگر ڈگر سے ہٹ جانے کے باعث وہ اکیلا بھی ہے، خوف زدہ بھی ہے اور دُکھی بھی۔ اُس نے اپنے اندر اُس نقطے کو متحرک ہی نہیں کیا جو سمت درست رکھتا ہے۔ وہ بہت مصروف ہے۔ اُس کے پاس نہ اپنے لئے وقت ہے نہ یار کے لئے۔ اِس لئے اُس کی زندگی بے کیف اور بے مقصد ہے۔

برصغیر کے عظیم صوفی شاعر بابا بُلھے شاہ کے عرس مبارک کی تقریبات شروع ہو چکی ہیں۔ بُلھے شاہ کا دربار آفاقی فکر کا علمدار ہے۔ اس لئے عرس کے موقع پر یہاں ہر مذہب کو ماننے والے اور مذہب سے بے گانے سب موجود ہوتے ہیں۔ بلھے شاہ سب کا ہے کیوں کہ وہ سب کی بات کرتا ہے۔ اس کی ذات میں کائنات رچی ہوئی ہے۔ اُس کے دِل کا آنگن اتنا وسیع ہے کہ اس میں بھانت بھانت کے لوگ خیمہ ڈالے سستا رہے ہیں۔ یہاں سے انہیں روحانی روشنی کے علاوہ ان تمام سوالات کے جوابات بھی مِلتے ہیں جو ازل سے انسان کے ذہن میں کُلبلاتے چلے آ رہے ہیں۔ خود بُلھے شاہ نے ایک عرصہ ”کی جاناں میں کون“ الاپتے ہوئے الجھنوں کے گرم کوئلوں پر ننگے پائوں سفر کیا، عشق کی تال پر بے سُد ہو کر برسوں دھمال ڈالی تب حقیقت کھلی۔ پائوں لہو لہان ہو گئے مگر منظر واضح ہوگیا۔ دھمال بھی نقطے تک رسائی کا عمل ہے۔ الف بھی بُلھے کا محبوب استعارہ ہے۔ جسے ایک کے معنی میں بھی سمجھا جاتا ہے۔ اِک رانجھے کی تلاش میں نکلنے والے ثالق کو اِک الف پڑھنے میں ہی سب نجات مضمر ہے۔ الف وہ کنجی ہے جو تمام خزانوں تک رسائی ممکن بناتی ہے۔ اگر یہ کُنجی ہمراہ نہ ہو تو عمر بھر ٹھوکریں کھاتے گزر جاتی ہے مگر صندوق کے اندر کیا معلوم نہیں ہو پاتا۔ الف باطن کی طرف سفر کا اشارہ بھی ہے اور بُلھے کے نزدیک اصل رہنمائی اور علم ظاہر کی بجائے باطنی رہنمائی سے ممکن ہے۔ تاہم ”اِک نقطہ یار پڑھایا ہے“ سے سفر آغاز کرنے والا بُلھا حقیقت کی منزلیں طے کرتے ہوئے معرفت کے اُس مقام تک پہنچ جاتا ہے جہاں اُسے ”اِک نقطے وچ گل مُکدی اے“ کا نتیجہ نظر آ جاتا ہے۔ یہاں وہ کسے حوالے کی بات نہیں کرتا نہ یار کے سبق کا تذکرہ چھیڑتا ہے بلکہ اپنے باطنی سفر کا احوال بیان کرتے ہوئے نتیجہ اخذ کرتا ہے۔ یار نے اُسے جس راہ پر ڈالا تھا اُس کا انجام بھی نقطہ ہی ہے۔ وہ اپنے تجربے کے بنیاد پر دوسروں کو یہ کہتا ہے کہ ظاہریت پرستوں کے بچھائے جالوں میں اُلجھ کر پریشان اور منتشر ہونے کے بجائے نقطے کا دامن تھام لو پھر منزل آسان ہوجائے گی۔

پَھڑ نقطہ چھوڑ حساباں نوں

کر دُور کُفر دیاں باباں نوں

لاہ دوزخ گور عذاباں نوں

کر صاف دِلے دیاں خواباں نوں

گَل ایسے گھر وِچ ڈُھکدی اے

اِک نُقطے وچ گل مُکدی اے

]]>
حج کے حوالے سے سبسڈی https://apnaorg.com/wp/columns/sughra-sadaf/%d8%ad%d8%ac-%da%a9%db%92-%d8%ad%d9%88%d8%a7%d9%84%db%92-%d8%b3%db%92-%d8%b3%d8%a8%d8%b3%da%88%db%8c/ Sun, 24 May 2026 12:58:36 +0000 https://apnaorg.com/wp/columns/general/%d8%ad%d8%ac-%da%a9%db%92-%d8%ad%d9%88%d8%a7%d9%84%db%92-%d8%b3%db%92-%d8%b3%d8%a8%d8%b3%da%88%db%8c/ حج کے حوالے سے سبسڈی

آج کل پورے ملک میں یہ بات زیرِ بحث ہے کہ حج مہنگا ہو گیا ہے۔ یہ بھی سننے کو ملتا ہے کہ حکومت جو پہلے اس پر سبسڈی دیتی رہی ہے، وہ برقرار رہنی چاہئے۔ یہ بات سمجھ سے بالاتر ہے کہ ناصرف موجودہ حکومت بلکہ سابقہ حکومتیں بھی جن کے دور میں ملک معاشی بدحالی کا شکار تھا، اس کے باوجود مختلف چیزوں مثال کے طور ٹرین کا کرایہ، سستی روٹی یا دیگر اشیاء پر سبسڈی دیتی رہی ہیں۔ جب ملک قرضہ لے کر چلایا جا رہا ہے تو پھر سبسڈی دینے کا کیا جواز باقی رہ جاتا ہے۔

ٹرین پر سفر کرنے والے جہاں بیس روپے کرایہ دے کرسفر کر سکتے ہیں وہاں پچاس روپے بھی ادا کر سکتے ہیں۔ سبسڈی دینے کا مطلب یہ ہے کہ ملک پر قرضے کا مزید بوجھ لاد دیا جائے۔ اس پوزیشن میں میرا نہیں خیال کہ ملک کسی بھی سبسڈی کا متحمل ہو سکتا ہے۔ اب آتے ہیں حج کے حوالے سے دی گئی سبسڈی کی طرف۔

حج بلا شبہ اسلام کے بنیادی ارکان میں سے ایک اہم رکن ہے اور باطنی عبادات میں سب سے بڑی عبادت بھی۔ لیکن اگر اسلام کے بنیادی اصولوں کا مطالعہ کریں تو واضح ہوتا ہے کہ حج اس مسلمان پر فرض ہے جو اس کی استطاعت رکھتا ہو یعنی جو فی زمانہ اس حیثیت کا مالک ہو کہ سفری و دیگر اخراجات اپنی جیب سے پورے کرنے کی صلاحیت رکھتا ہو اور دیگر تمام ذمہ داریوں سے عہدہ برا ہو چکا ہو۔

یہ تو نہیں ہو سکتا کہ جو عبادت انفرادی طور پر کسی پر فرض کی گئی ہے اس کے خرچ کا ایک حصہ حکومتی خزانے سے ادا ہو۔ پھر ایسی ریاست کی طرف سے جس پر معیشت کا اتنا بوجھ ہو کہ خود قرضہ لے کر چل رہی ہو اور دیگر کئی چیلنجز کا سامنا بھی ہو۔ مجھے دو سال پہلے اپنی فیملی کے ساتھ عمرے کی سعادت نصیب ہوئی۔ میں نے وہاں دیکھا کہ اسّی فیصد سے زائد لوگ پاکستانی تھے۔

جس مقام پر بھی گئے اکثریت پاکستانیوں کی تھی اور پھر یہ دیکھ کر دل بہت دکھی ہوا کہ جتنے بھی گداگر تھے، وہ بھی سب پاکستانی تھے جو عمرہ کرنے گئے تھے لیکن وہاں بھیک مانگ رہے تھے۔ قومی غیرت اور وقار کو مجروح کرکے عمرہ یا کوئی بھی عبادت کرنا کیا کارِ ثواب ہے؟ اب وہاں صورتحال یہ ہے کہ پاکستانیوں کو اچھی نظر سے نہیں دیکھا جاتا کیونکہ یہ وہاں جا کر قوانین کی پابندی نہیں کرتے اور کوئی بھی ایسا کام کرنے سے دریغ نہیں کرتے جس کو معاشرے میں اچھی نظر سے نہیں دیکھا جاتا۔

مزید یہ کہ قوانین کو پاؤں تلے روند دیتے ہیں۔ قطاروں کو توڑنا اور ایک دوسرے پر سبقت لے جانا تو عام مسئلہ ہے۔ جو کچھ میں نے وہاں دیکھا، سوچتی ہوں کہ ہماری قوم کس سے سبق حاصل کرے گی۔ جانے کب باشعور ہو گی۔ کچھ لوگ ملے جنہوں نے فخر سے بتایا کہ انہوں نے پندرہ حج کر رکھے ہیں۔ میں نے استفسار کیا کہ اتنے حج؟ تو کہا، رب کا کرم ہے، اس نے استطاعت دی ہے تو اس کے گھر میں آکر اس کی عبادت اور شکر کرتے ہیں۔ ظاہر ہے حکومت نے اپنی جیب سے پیسے نہیں دینے۔

میرے نزدیک غریب عوام کے ٹیکس سے سبسڈی کی مد میں رقم دے کر صاحبِ استطاعت کو حج کروانا درست نہیں ہے۔ خدا کے گھر جاکر ثواب اور معافی طلب کرنے والوں سے گزارش ہے کہ تمام دنیا کے علاوہ وہ ان کے دل میں بھی موجود ہے۔ اس سے سچا رابطہ تو کیجئے۔ وہ کہتا ہے جس نے میرے بندے کی مدد کی، اس نے میری مدد کی۔ اس بات کو سمجھئے۔ بابا فریدؒ نے کہا تھا؎

اُٹھ فریدا ستیا جھاڑو دے مسیت

توں سُتا رب جاگدا تیری ڈاڈھے نال پریت

میں گورنمنٹ کی اس پالیسی کی باقاعدہ حمایت کرتی ہوں کہ اس نے حج پر دی گئی سبسڈی کو ختم کر دیا ہے۔ اسے بالکل ختم ہونا چاہئے کیونکہ ایسی چیزیں حتیٰ کہ کھانے پینے کی چیزوں پر سبسڈی وہ حکومتیں دیتی ہیں جو خوشحال اور ترقی یافتہ ہوتی ہیں۔ جن کی معاشی حیثیت اس قابل ہوتی ہے۔

ایک ایسی ریاست جس کا پیدا ہونے والا بچہ بھی قرض کی ’’گڑتی‘‘ سے معاشرےکا حصہ بنتا ہے، اس پر سبسڈی کا مزید بوجھ نہیں لادنا چاہئے۔ ہمسایہ ملک کی طرف دیکھتے ہیں تو وہاں کی حکومت اور ریاست مضبوط ہے لیکن ان کی عوام کی حالت اچھی نہیں ہے۔

ہم اپنی طرف دیکھیں تو اکثریت خوشحال بلکہ ایک طبقہ تو ایسا ہے جس کی امارت آسمان کو چھوتی دکھائی دیتی ہے اور جس کے اخراجات ملکی اخراجات سے بھی زیادہ ہیں لیکن ہمارا ملک اس حوالے سے انتہائی نازک دور سے گزر رہا ہے۔

اس طبقے کا فرض ہے کہ وہ اپنا سرمایہ ملکی خراب صورتحال پر خرچ کرے اور وسائل ریاست کی بہتری کے لئے صرف کرے کیونکہ آخر انہوں نے پیسہ یہیں سے کمایا ہے۔ اور آخری بات کہ ہم عمرہ اور حج کرنے کے سے حوالے دنیا میں دوسرے نمبر پر ہیں لیکن اس تناسب سے دیانت داری میں آخری نمبروں پر کیوں ہیں۔ نماز میں مسجدیں بھری ہوتی ہیں۔

خانہ کعبہ اور مدینہ منورہ قمیں ہم موجود ہیں۔ اس کے باوجود بھلائی کیوں نہیں آ رہی۔ یہ سوچنے کا مقام ہے اور سب سے بڑا سوال بھی۔ ہم یہاں ہر گناہ کرتے ہیں، ناجائز پیسہ کماتے ہیں اور بخشوانے کیلئے حج اور عمرہ کرنے کی طرف راغب ہو جاتے ہیں۔

یہ نہیں سوچتے کہ خدا ہمارے ہر عمل کو دیکھ رہا ہے۔ ہم اپنے ہر عمل کے جواب دہ ہیں۔ کیا ہی اچھا ہو کہ ہم اپنے اعمال کو درست کریں۔ دہرے معیارِ کی زندگی سے نکل کر مثبت راستوں کے مسافر بنیں تاکہ دنیا اور آخرت کی بھلائی ہمارا مقدر بنے۔

]]>
تبدیلی اور اضطراب https://apnaorg.com/wp/columns/sughra-sadaf/%d8%aa%d8%a8%d8%af%db%8c%d9%84%db%8c-%d8%a7%d9%88%d8%b1-%d8%a7%d8%b6%d8%b7%d8%b1%d8%a7%d8%a8/ Sun, 24 May 2026 12:58:36 +0000 https://apnaorg.com/wp/columns/general/%d8%aa%d8%a8%d8%af%db%8c%d9%84%db%8c-%d8%a7%d9%88%d8%b1-%d8%a7%d8%b6%d8%b7%d8%b1%d8%a7%d8%a8/ تبدیلی اور اضطراب

تبدیلی اور اضطراب کا آپس میں گہرا تعلق ہے۔ اضطراب اگر جستجو اور کچھ کرنے کی لگن سے جڑا ہو تو مثبت نتیجہ برآمد ہوتا ہے۔ اضطراب اور پچھتاوے میں بہت فرق ہے بلکہ یہ متضاد کیفیات ہیں۔

انسان اضطراب کا شکار تب ہوتا ہے جب وہ کچھ کرنا چاہے، اس کے ارادے بھی پختہ ہوں۔ عزم بھی مصمم ہو اور راستہ بھی ہموار مگر انجان قوتیں عارضی رکاوٹیں رکھ کر رابطے مفقود کردیں۔ بہرحال طاقتور جذبہ اور ارادہ اپنا رستہ بنا ہی لیتا ہے۔ آج کل سیاسی اور فطری ماحول پر اضطراب کا راج ہے۔

اسے موسمِ اضطراب بھی کہہ سکتے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ کیا کچھ بدل رہا ہے، کیا ہم بدل رہے ہیں، ہمارے رویے بدل رہے ہیں اور کیا یہ تبدیلی جمہوری روایات کو مستحکم کرنے کی ضمانت ہوگی یا رستے میں محض روڑے اٹکا کر وقت برباد کرنے یا غلط افواہوں سے ملکی موسم کی فضا کو ناسازگار کرکے سرمایہ کاری کرنے والوں کو متفکر کرنا۔

بہرحال تبدیلی سے قبل ایک غیر یقینی صورتحال کا سامنا ضروری ہوتا ہے۔ جس طرح طلوع صبح سے قبل ایک بار اندھیرا کچھ زیادہ گہرا ہو جاتا ہے تاکہ روشنی کو اپنا اظہار کرنے اور اسے مات دینے کے لئے بھرپور کوشش کرنا پڑے۔

فروری کے مہینے کے وسط میں عموماً آغازِ بہار ہوجاتا ہے۔ زمین سردی کی کہر زدہ لہر اتار پھینکتی ہے، سورج کے اشارے پر دبکے ہوئے بیج حرکت میں آتے ہیں، زمین کا صحن رنگوں اور خوشبوؤں سے بھرنے لگتا ہے، تیز ہوا سوکھے پتوں کو خدا حافظ کہہ کر نئی کونپلوں کی راہ ہموار کرتی ہے تاکہ مارچ میں ان پر سبز پتوں اور پھولوں کی ٹوکریاں لادی جا سکیں۔

یوں یہ دس پندرہ دن بدلتے موسم کے لئے سخت جان لیوا ہیں۔ اس نمو کیلئے جس کا زمین، فضا اور ماحول کو سامنا ہے۔ ایک حالت سے دوسری میں تبدیل ہونا آسان عمل نہیں ہوتا۔

اس کیلئے پوری قوت صرف کرنا پڑتی ہے۔ ہمیں اُمید ہے فطرت اپنی کوششوں میں کامیاب ہوگی اور مارچ میں بہار اپنے جوبن پر ہوگی مگر جو اضطراب اور کشمکش اس وقت اپوزیشن اور حکومتی ایوانوں میں ہے وہ کس شکل میں اپنا اظہار کرے گی اور اس سے کیا بہتری برآمد ہوگی، اس کے بارے میں اندازے لگائے جا سکتے ہیں حتمی بات نہیں کی جا سکتی۔

سوال یہ ہے کہ اتنے تجربوں کے بعد کیا ہم اب واقعتاً بدلنے کے لیے تیار ہیں اور اس بہار کو خوش آمدید کہنے کے قابل ہیں جس کا خواب اس ملک کو حاصل کرنے سے پہلے دیکھا گیا تھا، یعنی ایک جمہوری ملک کا خواب جس میں جمہور کی حکومت ہو، جمہور کی توقیر ہو، جمہور کے مفادات اُسی وقت پنپ سکتے ہیں جب جمہوریت مضبوط ہو۔

مضبوط جمہوری حکومت کے فیصلے عوام کے شعور اور حقوق کے آئینہ دار ہوتے ہیں۔ موجودہ حکومت نے تبدیلی کے نعرے پر حکومت حاصل کی تھی۔ تبدیلی لانے کیلئے اُسے مروجہ استحصالی نظام کو تبدیل کرنا پڑے گا۔ خود کو بھی بدلنا ہوگا۔

کوئی بات نہیں ڈیڑھ سال کے تجربات سے دوستوں دشمنوں اور خیر خواہوں کی پہچان کے ساتھ ساتھ اچھائیوں اور کوتاہیوں کی بھی نشاندہی ہوگئی۔ کامیاب وہی ہوتا ہے جو وقت کے تقاضے سمجھتا ہے۔

حالات کا رُخ محسوس کرتا ہے اور پھر جمہوری نظریات کے مطابق تبدیلیاں کرتا ہے۔ جمہوریت میں مشاورت اور رائے کو مقدم سمجھا جاتا ہے اس لیے یوٹرن کا آپشن رکھنا پڑتا ہے۔ یہ اِس بات کی بھی دلیل ہے کہ ایک فرد یا چند افراد کا فیصلہ حرفِ آخر نہیں بلکہ اکثریت کی رائے کو ملحوظ خاطر رکھا گیا۔

جمہوریت صرف نظام کانام نہیں، حرکت کرتے پارلیمان، وزرا، ممبران اور افراد کی کارکردگی کا نام ہے۔ آپ ایک نظام کو کتابوں میں مضبوط دکھا سکتے ہیں مگر حقیقی طور پر وزیراعظم کے اختیارات کو یقینی بنانے سے جمہوری عمل پختگی کی طرف رخ کرتا ہے۔ جب تک اس عہدے کو عالمی اور ادارہ جاتی بندشوں سے آزاد نہیں کروایا جائے گا الجھنیں برقرار رہیں گی۔

اگر اس حکومت کو برسوں کی جدوجہد کے بعد کام کرنے کا موقع ملا ہے تو انہیں کام کرنے کا وقت دینا چاہئے۔ عوام،حکومتی ارکان، اپوزیشن اور اداروں کا اعتماد ان کے حوصلے بلند کرکے مشکلات سے نبرد آزما ہونے کے قابل بناتا ہے۔

جس طرح ہمارے حقوق ہیں، جمہوری حکومت کا بھی استحقاق ہے۔ اگر ہم چاہتے ہیں کہ ہمارا کل بدلے، ہمارا مستقبل روشن ہو تو ہمیں آج سے مثبت سوچ کو ذہن میں جگہ دینا ہوگی۔

اپنے حق سے پہلے اپنی حد، اپنے فرض اور اپنی ذمہ داری کا احساس کرنا ہوگا۔ یقیناً زیادہ مشکل اور آزمائش کے دن گزر گئے ہیں، اچھے دن آنے والے ہیں اور وہ اچھے دن ہماری حکومت کی مشترکہ جدوجہد سے آسکتے ہیں۔ آج عوامی شعور کا دور ہے۔ گزشتہ دنوں دونوں بڑی جماعتیں قانون سازی کے نتیجے میں اپنے ووٹرز کا غم وغصہ اچھی طرح ملاحظہ کر چکی ہیں۔

اب لوگ اس بات سے غرض نہیں رکھتے کہ وہ جس جماعت سے وابستگی رکھتے ہیں، کسی بھی طرح اس کی حکومت ہو بلکہ وہ نظریات اور اصولوں کی جیت دیکھنا چاہتے ہیں۔ اس لیے اب جو بھی جماعت کسی بھی طرح سے استعمال ہوگی اور کسی سیاسی جمہوری حکومت کا تختہ الٹنے میں اپنا کردار ادا کرے گی وہ عوام کی نظروں میں معتبر نہیں رہے گی اور اس کا خمیازہ اسے آئندہ انتخابات میں بھگتنا پڑے گا۔

اس لیے جمہوریت کے شاندار مستقبل کی ضمانت اسی میں ہے کہ تمام جماعتیں جمہوری عمل کو بہتر بنائیں۔ نئے تجربے کرنے والے فسطائیت کے مبلغین جن کے پاس قلم بھی ہے، گفتگو کیلئے میڈیم بھی ہے اور اس کی گفتگو میں تاثیر بھی ہے، کی چالوں کو سمجھیں۔

(کالم نگار کے نام کیساتھ ایس ایم ایس اور واٹس ایپ رائےدیں00923004647998)

]]>
عوامی بالا دستی کا آغاز https://apnaorg.com/wp/columns/sughra-sadaf/%d8%b9%d9%88%d8%a7%d9%85%db%8c-%d8%a8%d8%a7%d9%84%d8%a7-%d8%af%d8%b3%d8%aa%db%8c-%da%a9%d8%a7-%d8%a2%d8%ba%d8%a7%d8%b2/ Sun, 24 May 2026 12:58:36 +0000 https://apnaorg.com/wp/columns/general/%d8%b9%d9%88%d8%a7%d9%85%db%8c-%d8%a8%d8%a7%d9%84%d8%a7-%d8%af%d8%b3%d8%aa%db%8c-%da%a9%d8%a7-%d8%a2%d8%ba%d8%a7%d8%b2/ عوامی بالا دستی کا آغاز

1947ء میں پاکستان جب معرضِ وجود میں آیا تو اس کی اساس مکمل جمہوری جدو جہد پر مشتمل تھی۔ اس کا فیصلہ کسی میدان جنگ میں نہیں بلکہ مذاکرات کی سلجھی سنبھلی میز پر ہوا۔ فریقین نے دلائل کے ذریعے ایک دوسرے کے موقف کو سنا اور شرائط پر نتیجہ اخذ کیا۔

اس لئے روشن صبح کے طلوع ہونے کے بعد سب کو اُمید تھی کہ اب نوزائیدہ ملک جس نے جمہوریت کی گڑھتی سے سفر کا آغاز کیا ہے، جمہوری نظریے کو کبھی پس پشت نہیں ڈالے گا اور نہ ہی راستہ بھٹکے گا۔

ریاست کے ہر فیصلے اور لوگوں کے رویے میں جمہوری اِقدار منعکس ہوں گی مگر ہوا بالکل الٹ۔ اوّل دن سے ہی ملکی مسائل کی طرف توجہ کرنے کے بجائے اقتدار کے حصول کے لئے دھینگا مشتی شروع ہوگئی۔

سیاسی جماعتوں نے عوام کو جمہوری اقدار سے جوڑنے کے بجائے آپسی چپقلش کو پروان چڑھایا۔ جب ایک سیاسی جماعت بر سر اقتدار آتی تو سال ڈیڑھ سال بعد اپوزیشن والے خود مارشل لاء کی ضرورت پر زور دیتے نظر آتے۔

جن کی وجہ سے آج مختلف سیاسی لوگ جیلیں کاٹ رہے ہیں، وہ تمام کیسز سیاسی جماعتوں کے ہی بنائے ہوئے ہیں۔ ہمارے ہاں دوسروں کے حق میں انتخابات کے نتائج تسلیم کرنے کا رواج کم کم رہا ہے۔ اس لئے تناؤ اور رسہ کشی کی قسط مسلسل چلتی رہی ہے۔

حتیٰ کہ نوابزادہ نصر اللہ جیسے لوگ منتخب حکومتوں کے تختے الٹنے کی کاروائیوں میں شریک ہوتے رہے ہیں۔ کیونکہ مثالی جمہوریت بھی ہمارا مسئلہ رہی ہے جو عدم استحکام کی وجہ ہی بنی کیونکہ مثالی جمہوریت تو دنیا کے کسی ملک میں کبھی بھی وجود میں نہیں آسکی۔ اس میں بہتری تسلسل کی وجہ سے ہی آسکتی ہے۔

خوشی اور اطمینان کی بات یہ ہے کہ عوامی بالا دستی اب سیاسی جماعتوں تک محدود نہیں رہی۔ سوشل میڈیا کا اعجاز ہے کہ آج ہم فکری اور شعوری طور پر ایک بدلے ہوئے پاکستان میں سانس لے رہے ہیں۔

جمہوری قدروں کے پرچارک رہنمائوں کے بیانیے کو نچلی سطح تک پہنچانے اور عوام کو اصل معاملات سے آگاہ کرنے میں اس پلیٹ فارم نے بھرپور کردار ادا کیا ہے۔ میڈیا پر مخصوص ایجنڈا پھیلا کر عوامی رائے کو تبدیل کرنا مشکل ہوگیا ہے۔ سچی بات تو یہ ہے کہ عوام نے غلام بننے سے انکار کر دیا ہے۔

وہ آزادانہ سوچ کے ساتھ جینا چاہتے ہیں۔ اب اندھی عقیدت میں سرشار ہو کر فقط لیڈر کے حق میں نعرے لگانے والے لوگ ناپید ہونا شروع ہورہے ہیں۔ انہیں جمہوریت کے فلسفے اور ایجنڈے کی آگاہی میسر ہوچکی۔

وہ کسی فرد کی بادشاہی کے بجائے اپنے یعنی جمہور کے راج کے لئے کوشاں ہیں۔ اس وقت وہی بیانیہ پذیرائی حاصل کرے گا جو عوامی بالا دستی کا آئینہ دار ہوگا۔ لوگ شخصیات کو نظریات کے آئینے میں دیکھنے کے عادی ہورہے ہیں۔ جواپنے بیانیے سے ہٹے گا، وہ اپنا اعتماد اور ووٹ کھو دے گا۔ آئندہ انتخابات میں شہیدوں کے پورٹریٹ، بیماروں کی ڈرپس اور کال کوٹھری کی پینٹنگز سے عوام کی ہمدردیاں نہیں خریدی جا سکیں گی۔

موجودہ کارکردگی کی فہرست اور چلتے پھرتے حقائق مہیا کرنا پڑیں گے۔ عوامی خدمت گاری کے دعوے داروں کو شاہانہ انداز ترک کر کے عوامی سڑک پر سفر کرنا پڑے گا۔ اختیارات نچلی سطح تک منتقل کرنا پڑیں گے۔ جمہوری حکمران بلدیاتی نمائندوں کو اختیارات تفویض کرکے اپنی ذمہ داریاں کم اور ان کو زیادہ فعال کر دیتے ہیں۔

جب عوام حکومت کا حِصّہ بن جاتے ہیں تو وہ جمہوری نظام کی حفاظت کی ذمہ داری بھی نبھاتے ہیں۔ زیادہ لوگوں کو ملکی ترقی کے عمل میں شریک کرکے زیادہ مثبت اور بہتر نتائج حاصل کئے جاسکتے ہیں۔ آج عوامی شعور کی بیداری بالخصوص اپنی ہی جماعت کے رکن ہوتے ہوئے اس کے غیر جمہوری فیصلوں کے خلاف آواز اٹھانا معجزاتی عمل سے کم نہیں۔

اب یہ پریشر ان رہنماؤں کی سمت درست رکھے گا جو وسیع تر مفاد کے جھانسے میں ذاتی مفاد ات کی سودابازی کرتے رہے ہیں۔

اب ووٹ دینے والوں کو اپنے ووٹ کی قدر و قیمت کا احساس ہوچکا۔ انہیں علم ہوچکا کہ پرچی پر لگایا جانے والا انگوٹھا ملک کی تقدیر کا فیصلہ ہے۔ اس لئے اب وہ اپنے خوابوں کی تعبیر اور تدبیر کے لئے نکلیں گے کیونکہ وہ ووٹ کی تقدیس کے لئے ہر رکاوٹ کا سامنا کرنے کا عزم کر چکے ہیں۔

ایک دہاڑی دار مزدور سے لے کر اعلیٰ عہدے دار تک ہر طبقۂ فکر کے لوگوں کو پاکستان کی ترقی کی راہ میں حائل معاملات اور مسائل کا ادراک ہوچکا۔

سوائے چند لوگوں کے جو پالیسی ساز بھی ہیں مگر ماضی کی روش پر چلنا چاہتے ہیں جبکہ زمانہ چپکے سے اپنی روش بھی بدل چکا اور رویہ بھی۔ جب سب کا مطمح نظر ملکی مفاد ہے تو اپنے لوگوں کی آواز سننے میں کیا ہرج ہے؟

آخر کب تک ہم نے دوسروں کی مرضی اور مفاد کے لئے اپنوں کو نظرانداز کرنا ہے۔ جمہور کو بااختیار کیجئے ،یہ آپ کو کسی دنیاوی پاور کے سامنے جھکنے نہیں دیں گے۔ ہر محاذ پر ڈٹ جائیں گے۔ یہی لوگ جمہوریت کی حفاظت بھی کریں گے۔

جب آپ نظریے پر قائم رہیں گے تو آئندہ انتخابات میں آپ کے لئے دیواروں پر خوش آمدید کے جو بینر لگیں گے ان میں عقیدت، محبت اور قربانی کی چمک ہوگی۔ سوشل میڈیا کے اس آگاہی پروگرام کو سیاسی جماعتیں اپنی کمائی سمجھ کر قبول کریں اور یاد رکھیں اب لوگوں کو بولنا اور سوال کرنا آگیا ہے۔

سیاسی جلسہ اب ایک ایسا لیکچر ہوسکتا ہے جس کی تیاری بہت ضروری ہے کیونکہ سامنے بیٹھے لوگ آزاد بھی ہیں اور باخبر بھی۔ ہر صاحبِ شعور انسان خوش ہے کہ عوامی بالا دستی کا وہ خواب جو برسوں سے دیکھا اور روندا جارہا تھا اب اس کی تعبیر کے آثار پیدا ہوگئے ہیں۔

یاد رکھئے یہاں کے لوگوں کا مزاج اور رویہ آج بھی جمہوری قدروں کا آئینہ دار ہے مگر عوام سے جمہوریت کے تحفظ کے لئے آواز بلند کرنے کا شکوہ کرنے والے یاد رکھیں۔

فاطمہ جناح، ذوالفقار علی بھٹو اور بینظیر کے لیے لوگوں نے کوڑے کھائے، جیلیں کاٹیں اور ہر مشکل کا سامنا کیا۔ عوام نظریے کے لئے نکلتی ہے۔ ذاتی مفادات کو پسِ پشت ڈال کر نظریے کی جب بھی بات ہوگی عوام نکلیں گے۔

]]>
کڑیانوالہ میں بدلتے رویوں کی شروعات https://apnaorg.com/wp/columns/sughra-sadaf/%da%a9%da%91%db%8c%d8%a7%d9%86%d9%88%d8%a7%d9%84%db%81-%d9%85%db%8c%da%ba-%d8%a8%d8%af%d9%84%d8%aa%db%92-%d8%b1%d9%88%db%8c%d9%88%da%ba-%da%a9%db%8c-%d8%b4%d8%b1%d9%88%d8%b9%d8%a7%d8%aa/ Sun, 24 May 2026 12:58:36 +0000 https://apnaorg.com/wp/columns/general/%da%a9%da%91%db%8c%d8%a7%d9%86%d9%88%d8%a7%d9%84%db%81-%d9%85%db%8c%da%ba-%d8%a8%d8%af%d9%84%d8%aa%db%92-%d8%b1%d9%88%db%8c%d9%88%da%ba-%da%a9%db%8c-%d8%b4%d8%b1%d9%88%d8%b9%d8%a7%d8%aa/ کڑیانوالہ میں بدلتے رویوں کی شروعات

کب معلوم تھا کہ کَڑیانوالہ جو ضلع گجرات کا چھوٹا سا قصبہ ہے جس میں گاؤں کا پورا ماحول موجود ہے، جہاں کے لوگوں کا مزاج دھرتی کے رنگوں سے ہم آہنگ ہے۔ آنکھوں میں خلوص اور لہجوں میں میں گرمجوشی، اپنائیت اور محبت کا احساس دلاتی ہے۔ یوں مہمان نوازی کا ہنر جانتے ہیں کہ آؤ بھگت میں نظریں بچھانے کا محاورہ سچ کر دِکھانے میں کمال رکھتے ہیں۔ ان کے درمیان مجھے کئی خوشگوار حیرتوں سے گزرنا پڑے گا۔

محکمہ مال کی دستاویزات کے مطابق کَڑیانوالہ ضلع گجرات کا تاریخی قصبہ ہے۔ جسے لگ بھگ 1206ء میں مہو نامی شخص نے آباد کیا۔ کشمیر کا یہ سرحدی علاقہ کئی بار آباد اور برباد ہوا۔ تاریخ کے کئی اُتار چڑھاؤ اس زمین کے دل اور لوگوں کی آنکھوں میں محفوظ ہیں۔ اکبر بادشاہ کے دور میں مہو کی اولاد میں سے موجود لوگوں نے اسے سرکار کی اجازت سے دوبارہ آباد کیا تو یہ علاقہ اکبر آباد کہلایا۔ یہاں چھتوں میں استعمال ہونے والی لکڑی کی تیاری اس قدر کمال کی تھی کہ یہی اس کی وجہ شہرت اور نام بن گئی۔ اسی مناسبت سے یہ گاؤں کَڑیانوالہ کے نام سے مشہور ہوا۔ یہ ڈھائی سو کے قریب دیہاتوں کا کاروباری مرکز اور ملک کو زرِمبادلہ فراہم کرنے والا اہم قصبہ ہے۔ شاید ہی کوئی گھر ہوگا جس میں ایک یا ایک سے زائد افراد بسلسلہ روزگار امریکہ، یورپ سکنڈے نیویا اور مشرقِ وسطیٰ و خلیج میں نہ ہوں بلکہ دنیا کے ہر ملک میں کَڑیانوالہ کے لوگ نظر آتے ہیں۔ علم و ادب کے حوالے سے بھی اس علاقے نے اپنا سکّہ جمایا ہے۔

سچی بات تو یہ ہے کہ ضلع گجرات کے رہائشی ہونے کے باوجود اب تک مجھے کَڑیانوالہ کی زیارت نصیب نہ ہو سکی تھی۔ ہر وقت متحرک اور کسی نہ کسی علمی و ادبی کام میں مشغول شیخ رشید کا فون وسیلہ بنا۔ ہمارے کَڑیانوالہ کے قریبی گاؤں کی نوجوان لڑکی کے دو ناول منصہ شہود پر جلوہ افروز ہوئے ہیں، دعوتِ تقریب کا پروانہ بھیج رہا ہوں قبول کیجئے۔ انکار کی گنجائش ہی نہ تھی۔ جانے کیسا لمحہ تھا کہ کسی تردد کی بھی جرأت نہ ہوئی۔ ہر عورت کے لئے میکے کی طرف سفر خوشی کا ایک احساس ہوتا ہے۔ مگر میں اس سرزمین کے لوگوں کو سلام کرنا چاہتی تھی جہاں وقت اتنا بدل چکا ہے کہ ایک نوجوان لڑکی زندگی اور محبت کے موضوع پر قلم اٹھاتی ہے تو اس کے بھائی اس کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں۔ اس کا باپ اس کے سر پر ہاتھ رکھتا ہے۔ اس کی تحریریں چھُپانے کے بجائے انھیں چھپوانے کی سعی کرتے ہیں اور اہل علاقہ اس کے اعزاز میں تقریب کا اہتمام کرتے ہیں۔ یہ ذکر کرنے کی ضرورت نہیں کہ ابھی بھی ایسے کئی مقامات ہیں جہاں لڑکیاں اظہار کی طاقت رکھتی تھیں، شعر لکھنا جانتی تھیں۔ انہیں کہانی لکھنا اچھا لگتا تھا، لیکن معاشرتی دباؤ اور گھر والوں کی رکاوٹوں نے انہیں اظہار کے رستے پر بھاری پتھر رکھ کر صبر کا کڑوا گھونٹ پینا سکھا دیا۔ معاشرے میں نئی روایات کی شروعات کے لئے کسی نہ کسی روبین نواز کو سامنے آنا پڑتا ہے۔ پھر بات خوشبو کی طرح پھیل جاتی ہے۔

معصوم اور نوجوان لڑکی خوش بھی تھی اور حیران بھی، مگر اس کی آنکھوں میں تشکر کے آنسو اور اعتماد کے پس پشت پورے علاقے کا اعتماد موجود تھا۔ عورتیں اور مرد تقریب میں شریک تھے۔ پہلی بار مجھے کسی ادبی تقریب کی صدارت کرتے ہوئے فخر محسوس ہوا۔ شاید میرے اندر کی عورت معاشرے کے بدلتے رویوں پر طمانیت محسوس کر رہی تھی۔ بہرحال کَڑیانوالہ لٹریری سرکل مبارکباد کا مستحق ہے جس نے بیک وقت روبین نواز کے دو ناولوں ’’آپ جہاں ہم وہاں‘‘ اور ’’سفرِ محبت‘‘ کی پروقار تقریب کا خواب سچ کر دکھایا۔ میں سمجھتی ہوں کہ ادب انسانی بیانیہ کو محور بناتے ہوئے آفاقی سچائی کا نقیب ہے۔ ادب کا ماخذ زندگی کے حقائق ہیں۔ روبین نواز نے اپنی تحریروں میں انسانی خوشی و غم کو سموتے ہوئے پختہ قلم کاری اور بھرپور تخلیقی صلاحیتوں کا مظاہرہ کیا ہے۔ اس کی تحریر میں سچائی ہے اس لئے کہ جو کچھ ہے اس کا اپنا ہے، اپنا اندازِ بیان، اپنی سوچ اور اپنا لب و لہجہ۔

بڑے لوگ ہمیشہ چھوٹے قصبوں اور شہروں سے کوئی نہ کوئی جڑت رکھتے ہیں۔ ہمارے دیہاتوں اور قصبوں میں ابھی تک اوریجنیلٹی باقی ہے۔ زندگ کا اصل رُوپ موجود ہے۔ محبتیں، نفرتیں اور چپقلشیں اپنے اصل رنگ میں منعکس ہیں۔ ان پر منافقت، سمجھوتے اور منافقانہ رواداری کا خول نہیں چڑھا۔ اس لئے وہاں بیٹھ کر لکھنے والازندگی اور فطرت کا زیادہ گہرائی سے مشاہدہ کرتا ہے اور ان میں ربط تلاش کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ جس طرح روبین نواز نے محبت کی آفاقی سچائی کو زمینی دانش سے جوڑ کر کہانی بُنی ہے۔ یہ کہانی صرف ناول تک محدود نہیں رہے گی بلکہ کَڑیانوالہ کے تعارف کی گونج بنے گی۔ میں اسے بدلتے رویوں کے سفر کا آغاز کہتی ہوں۔ اظہار کی بندشوں کے ٹوٹنے کی آواز کہتی ہوں۔ گجرات کے اس قصبے نے پاکستان کے گھٹن زدہ علاقوں کے باسیوں کو غیر محسوس طریقے سے ایک پیغام دیا ہے۔ عورتوں کی آزادی اور حقوق پر سیمینار اور کانفرنس کرنے کے بجائے عملی ثبوت دیا ہے۔ یہ کرو وہ کرو کے نعرے لگانے کی بجائے کرکے دکھایاہے۔ بڑے حوصلے اور وسیع النظری کا مظاہر کیا ہے۔ میں اسٹیج پر بیٹھی عورتوں اور مردوں سے بھرا ہال دیکھ کر خوش ہوتی رہی۔ جہاں ہر مکتب ِ فکر اور عمر کے لوگ اس بات پر متفق تھے کہ عورت اور مرد کی تخلیقی صلاحیتوں میں فرق روا نہیں رکھا جانا چاہئے اور نہ رکاوٹیں کھڑی کرنی چاہئیں۔ وہاں کسی نے تنقید تو دور کی بات اک ذرا سا تلخ جملہ بولنے کی بھی جسارت نہیں کی۔ کیونکہ سب اس نوجوان کا مان بڑھانے کا عزم لے کر آئے تھے۔تاریخ نے دنیا میں علم وفنون کا آغاز یونان سے ظاہر کیا ہے۔ گجرات بھی اسی سرزمین سے بڑی جڑت رکھتا ہے۔ ہو سکتا ہے پاکستان میں عورتوں کے حقوق کی سربلندی اور ان کی آواز بننے میں یہ قصبہ آغاز بن جائے۔

]]>
وہ یہ کہتے ہیں ہراک ظُلم ترے حکم سے ہے https://apnaorg.com/wp/columns/sughra-sadaf/%d9%88%db%81-%db%8c%db%81-%da%a9%db%81%d8%aa%db%92-%db%81%db%8c%da%ba-%db%81%d8%b1%d8%a7%da%a9-%d8%b8%d9%8f%d9%84%d9%85-%d8%aa%d8%b1%db%92-%d8%ad%da%a9%d9%85-%d8%b3%db%92-%db%81%db%92/ Sun, 24 May 2026 12:58:36 +0000 https://apnaorg.com/wp/columns/general/%d9%88%db%81-%db%8c%db%81-%da%a9%db%81%d8%aa%db%92-%db%81%db%8c%da%ba-%db%81%d8%b1%d8%a7%da%a9-%d8%b8%d9%8f%d9%84%d9%85-%d8%aa%d8%b1%db%92-%d8%ad%da%a9%d9%85-%d8%b3%db%92-%db%81%db%92/ وہ یہ کہتے ہیں ہراک ظُلم ترے حکم سے ہے

نومبر کا مہینہ فیض کا مہینہ ہے، کئی سالوں کی طرح اِس سال بھی فیض میلے نے تین دن لاہور میں اہل علم و ادب اور ثقافت کی توجہ الحمرا کی سمت مبذول رکھی۔ خوشی کی بات یہ ہے کہ فیض کے اس دنیا سے اگلی دنیا میں منتقلی کے بعد بھی ان کے افکار کا فیض جاری ہے۔ کچھ لوگ اُن کے نظریے سے عشق کرتے ہیں اور اُسے اپنے لئے رہنمائی کا ضابطہ تصور کرتے ہیں تو کچھ ان کی شاعری کے شعری حُسن کی محبت میں گرفتار ہیں۔ فیض وہ خوش قسمت شاعر اور انسان ہے کہ جس پر محبت، زندگی کے تلخ موسموں اور اختلافات کی دھند میں بھی مہربان رہی۔ خلقت نے انھیں چاہا، سراہا اور ہمیشہ پلکوں پر بٹھایا۔ اگرچہ اہل اقتداار کا رویہ اُن سے مختلف رہا فیض کی مقبولیت کا یہ عالم ہے کہ ہر سال نہ صرف لاہور میں ایک بڑا میلہ سجتا ہے جس میں دنیا جہان کے ادب، علم، کلچر، موسیقی اور فن کی دیگر جہتوں کے لوگ شامل ہوتے ہیں بلکہ مختلف ممالک میں اس طرح کی تقریبات منعقد کی جاتی ہیں، سیمینارز اور کانفرنسیں منعقد ہوتی ہیں اور ان کا اہتمام وہ لوگ کرتے ہیں جنہیں فیض کے فلسفے سے محبت ہے، جو فیض کی فکر کو عام کرنا چاہتے ہیں اور جنہوں نے فیض کی سوچ کو اوڑھنا بچھونا بنا کر رکھا ہے۔ فیض احمد فیضؔ کی شاعری اور فکر کے حوالے سے ہزاروں کتابیں لکھی گئیں جو کہ ایک بہت بڑا خراج عقیدت بھی ہے اور اُن کے نظریے کی بیت بھی۔

ہم سب جانتے ہیں کہ فیض احمد فیض ترقی پسند سوچ کے حامل شاعر تھے۔ اسی لئے تمام عمر معاشی، معاشرتی اور سماجی استحصال کے خلاف آواز بلند کرتے رہے۔ انہوں نے ایک عام آدمی کا درد محسوس کیا اور اسے اپنے خوشنما شعریت کے پرچارک لفظوں میں ڈھالا۔ ان کی فلسفیانہ فکر کے ساتھ ساتھ ان کی شاعری میں ایک صوفیانہ رنگ نمایاں نظر آتا ہے۔ ایک تو فیض کی اپنی شخصیت میں تصوف کا گہرا رنگ تھا، وہ بہت ہی حلیم، روادار اور محبت کرنے والے انسان تھے اور پھر جو فرد انسانیت کی بات کرے وہ کسی نہ کسی حوالے سے تصوف کے رستے کا مسافر ہوتا ہے۔ فیض کی شاعری میں ظاہر پرستوں کے حوالے سے جو بلند احتجاج موجود ہے وہ بھی صوفیوں کا وتیرہ رہا ہے۔ ہمارے بعض مذہبی رہنماؤں نے ہمیشہ طاقتوروں کی ہاں میں ہاں ملائی اور ان کے جھوٹ کو سچ کرنے کے لئے عوام کی سوچ کو ورغلایا۔ فیض نے دیگر صوفیاء کی طرح ان کے دہرے معیار اور منافقت کے خلاف آواز بلند کی۔

فیض کو اس بات کا زیادہ رنج ہے کہ ہمارے یہ رہنما لوگوں کو اس بات پر قائل کر لیتے ہیں کہ جو کچھ ہورہا ہے یہ قسمت کا لکھا ہوا ہے اس لیے اسے قبول کرلینا ضروری ہے اور ظالم کا ہاتھ پکڑنا یا اس کی فکر کے خلاف جانا کسی طور درست نہیں۔ فیض اس روش کو نا پسند کرتا ہے اور انہیں للکارتے ہوئے اپنے خدا سے شکوہ کرتا ہے کہ وہ تیرا نام لے کر تیرے بندوں کا استحصال کر رہے ہیں کیونکہ وہ سادہ لوح عوام کو کہتے ہیں کہ دنیا میں جو کچھ ظلم و زیادتی اور ناانصافی برپا ہے وہ تیرے حکم سے ہے اس لیے ظالم کی بادشاہی کو تسلیم کر لو اور بغاوت کا خیال دل سے نکال دو۔ یہ سچ ہے کہ خدا قادرِ مطلق ہے مگر اس نے انسان کو فیصلے کا اختیار دے کر اس کی مرضی کو اہمیت دی ہے اور اس کے ساتھ ساتھ ظلم نہ سہنے بلکہ ظلم کا مقابلہ کرنے کا حکم بھی دیا ہے۔ اسی بات کو مدنظر رکھتے ہوئے فیض شکوہ کرتا ہے کہ وہ جو ہمیں یہ درس دیتے ہیں کہ ہر ظلم تیرے حکم سے ہے۔ اگر وہ درست ہیں تو پھر میں کس کی بات سنوں۔ میں اگر تیری ذات کا اقرار کرتا ہوں تو تیرا عدل میرے سامنے ہے لیکن وہ جو تیرے نمائندے، تیرے ٹھیکیدار بن کر تیری آیات کی غلط تو جیہہ کرتے ہیں۔ اگر ان کی بات مانتا ہوں تو پھر تجھ پر سے بھروسہ اٹھنے لگتا ہے۔

وہ یہ کہتے ہیں تُو خوشنود ہر اک ظلم سے ہے

وہ یہ کہتے ہیں ہر اک ظلم ترے حکم سے ہے

گر یہ سچ ہے تو ترے عدل سے انکار کروں

اُن کی مانوں کہ تری ذات کا اِقرار کروں

(کالم نگار کے نام کیساتھ ایس ایم ایس اور واٹس ایپ رائےدیں00923004647998)

]]>
جوانوں کو پیروں کا استاد کر https://apnaorg.com/wp/columns/sughra-sadaf/%d8%ac%d9%88%d8%a7%d9%86%d9%88%da%ba-%da%a9%d9%88-%d9%be%db%8c%d8%b1%d9%88%da%ba-%da%a9%d8%a7-%d8%a7%d8%b3%d8%aa%d8%a7%d8%af-%da%a9%d8%b1/ Sun, 24 May 2026 12:58:36 +0000 https://apnaorg.com/wp/columns/general/%d8%ac%d9%88%d8%a7%d9%86%d9%88%da%ba-%da%a9%d9%88-%d9%be%db%8c%d8%b1%d9%88%da%ba-%da%a9%d8%a7-%d8%a7%d8%b3%d8%aa%d8%a7%d8%af-%da%a9%d8%b1/ جوانوں کو پیروں کا استاد کر

کیا خوبصورت سماں تھا حضوری باغ میں۔ اقبال کے مزار پر جشن بپا تھا، جس میں تاریخ کا شاہانہ عکس اور حال کا ثقافتی وقار قمقموں کی روشنی میں مزید اجاگر ہو رہے تھے۔ چاروں طرف سے سنہری دور کی علامتوں میں گھرا حضوری باغ دلکشی کا وہ نمونہ ہے جس نے آج کے اہل حکومت اور ماضی کی بادشاہت کے درمیان ایک کڑی کی مانند موجود ہے۔ دیگر ملکوں کے سربراہوں کے اعزاز میں یہیں تقریبات منعقد کی جاتی ہیں تاکہ ایک ہی وقت میں انھیں اپنی تاریخ اور ورثے سے روشناس کرایا جا سکے۔ شاہی قلعہ اور شاہی مسجد کے در و دیوار میں بہت سے راز پنہاں ہیں۔ تنگ و تاریک عقوبت خانوں، چھوٹے چھوٹے روشن دانوں، اکھڑی ہوئی اینٹوں کے نیچے، دروازوں کی درزوں میں ابھی تک کچھ رقعے اور پیغامات محفوظ ہیں۔ خوشی اور چہل پہل کے ساتھ خوف کے سائے بھی منجمد ہو چکے ہیں۔ مجھے ذاتی طور پر یہ مقام ماضی میں جھانکنے اور تاریخ کو اپنی آنکھوں سے دیکھنے کا دریچہ محسوس ہوتا ہے۔ جب بھی وہاں جانے کا موقع ملا ان در و دیوار میں مقید ہیں، سازشیں اور ان کہی رہ جانے والی سرگوشیاں سننے کی کوشش ضرور کرتی ہوں۔ تہہ خانوں میں سر پٹکتی چیخیں اور سرنگوں میں پھنس جانے والی کہانیاں بھی مجھے پکارتی ہیں۔ وہاں بہت سی اشیا ابھی تک امانتاً پڑی ہوئی ہیں۔ یہ امانتیں اس دور کے دانشور نے آنے والے زمانے کی سبق آموزی کے لئے محفوظ کی تھیں۔ جاہ و جلال اور شاہانہ اطوار سے پھسلتی نظر اقبال کے مزار تک آتی ہے تو عجیب سا سکون محسوس ہوتا ہے۔ مسلمانوں کے عہد رفتہ کی داستان سنا کر جذبہ حریت پیدا کرنے والا، دوبارہ کھوئے ہوئے مقام کی بازیابی کے نسخے لکھنے والا، نظر کی محدود استطاعت اور عقل کی حد بندی سے آگاہ کرکے وجدان کی طرف راغب کرنے والا، یہ ڈاکٹر روحانی تعویذ بھی عنایت کرتا تھا۔ دونوں ہاتھوں میں دونوں دنیاؤں کے رازوں سے بھرے بریف کیس لے کر گھومتا رہا۔ مگر ذاتی طور پر درویشانہ طرزِ حیات کا چاہنے والا۔ اقبال کو یہاں سپرد خاک کرنے کافیصلہ یقیناً دو مکتبِ فکر کا موازنہ بھی ہو سکتا ہے۔ ایک طرف لوہے کی تلوار سے علاقے اور دوسری سمت لکڑی کی قلم سے دلوں کو جیتنے والا۔ یوں یہ مقام ہمارے گزشتہ کل، آج اور مستقبل سے وابستہ ہے۔ آج وہاں بادشاہ کی سواری کے ہٹو بچو سائرن نہیں بجتے، سر جھکائے غلاموں کی قطاریں نظر نہیں آتی، شہزادیوں کے پیچھے چلنے والی کنیزوں کا دیدار نہیں ہوتا، اس لئے کہ قلعے پر سبز اور سفید پرچم لہراتا ہوا ایک مختلف روایت کا امین ہے۔ اقبال کے یوم پیدائش پر ثقافتی ورثے کی سنبھال اور آرائش میں بے پناہ خدمات سر انجام دینے والے کامران لاشاری اور نانا کے لفظوں کو وجد آفریں دھنوں سے مزین کرکے سماعتوں میں بسانے کی جدوجہد میں ہر لمحہ مصروف یوسف صلاح الدین نے حضوری باغ میں عالیشان محفل منعقد کی۔ راحت فتح علی خان، حدیقہ کیانی، علی ظفر، ساحر علی بگا، شفقت امانت علی، صنم ماروی اور حنا نصراللہ نے دلوں کے ساتھ روح سے مکالمے کا سماں پیدا کیا۔ اب بھی یہاں موسیقی کی محفلیں جمتی ہیں لیکن اب ان سے محضوظ ہونے کے لئے کلچر، میوزک اور شاعری سے محبت کرنے والے لوگ شامل ہوتے۔ بڑا آئینی دروازہ دن بھر کھلا رہتا ہے۔ سیاحت اور سبق ساتھ ساتھ۔ اس محفل میں گرو نانک کے 550ویں جنم دن کے لئے آنے والے سکھ یاتری بھی موجود تھے۔ جنہیں شائستہ لودھی نے خصوصی طور پر خوش آمدید کہا۔ علی ظفر کا تہبند اقبال کی درویشی اور پنجابی ثقافت کی علامت تھا۔ فارسی کلام بھی گایا گیا اور انگریزی ترجمے بھی، جرمنی، ایران، ترکی اور دیگر ممالک کے سفیروں کی گفتگو اقبال کی ہمہ گیر دانش اور فلسفے کی گواہی تھی۔ اقبال ہر دور کا شاعر ہے۔ جوانوں کو پیروں کا استاد کر۔ ترقی یافتہ فلسفیانہ اور سائنسی فکر ہے۔ ٹیکنالوجی کی برکتوں سے فیض یاب ہونے والے نوجوان زیادہ پُراعتماد، سچے اور فیصلہ سازی میں تیز ہیں۔ اس لئے ریاست کو انھیں آگے کر کے ان کی صلاحیتوں سے فیض یاب ہونے کی ضرورت ہے۔ ہماری آج کی نوجوان نسل قابلیت اور صلاحیتوں میں تو بے مثال ہے مگر ہمارے موجودہ تعلیمی نظام نے ہزاروں سال پرانی علمی میراث اور ثقافت سے اس کا تعلق منقطع کر دیا ہے۔ اب اقبال کے الفاظ اس کے لئے اجنبی ہوتے جا رہے ہیں۔ اگر یہی عالم رہا تو یہ متروک بھی ہو سکتے ہیں۔ اپنی زمین اور ثقافتی اقدار سے جڑت کے بغیر کسی قوم کا مورال بلند نہیں ہو سکتا۔ انھیں کوے اور ہنس کی صورت حال کا سامنا رہتا ہے۔ آپ صرف اپنی بنیاد پر کھڑے ہوکر جداگانہ تشخص پر ناز کر سکتے ہیں۔ ضروری ہے کہ اقبال کے پیغام کو نوجوان نسل کا اعزاز بناکر انھیں حریت، خودی اور خود اعتمادی کی رہ گزر پر گامزن کیا جائے اور اس کے لئے اقبال کی شاعری کی تفہیم ضروری ہے۔ ترجمے میں وہ بات کبھی ادا نہیں ہوسکتی جو شاعر کے دل سے نکلے لفظوں میں ہوتی ہے۔

خرد کو غلامی سے آزاد کر

جوانوں کو پیروں کا استاد کر

ہری شاخِ ملت ترے نم سے ہے

نفس اس بدن میں ترے دم سے ہے

تڑپنے پھڑکنے کی توفیق دے

دلِ مرتضیٰ سوزِ صدیق دے

جگر سے وہی تیر پھر پار کر

تمنا کو سینوں میں بیدار کر

]]>